اسلام آباد(گدروشیا پوائنٹ) اسلام آباد میں فوڈ اتھارٹی کا بڑا چھاپہ، 25 من گدھے کا گوشت برآمد، شہریوں میں تشویش تفصیلات کے مطابق فوڈ اتھارٹی اسلام آباد نے ترنول کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے 25 من گدھے کا گوشت برآمد کر لیا۔ چھاپے کے دوران 50 سے زائد زندہ گدھے اور بڑی مقدار میں گوشت بھی ضبط کر لیا گیا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ اتھارٹی ڈاکٹر طاہرہ صدیق کے مطابق چھاپے کے دوران موقع پر موجود ایک غیر ملکی شخص کو حراست میں لے کر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گدھے کا گوشت ممکنہ طور پر بیرونِ ملک اسمگل کیا جاتا تھا، تاہم یہ بھی تفتیش کی جا رہی ہے کہ آیا یہ گوشت مقامی مارکیٹ میں بھی سپلائی کیا گیا یا نہیں۔ ڈاکٹر طاہرہ صدیق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فوڈ اتھارٹی شہریوں کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی کے لیے دن رات کوشاں ہے، اور غیر قانونی اور مضرِ صحت گوشت کی روک تھام کے لیے ایسے اقدامات جاری رہیں گے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل لاہور میں بھی گدھے کے گوشت کی فروخت کا انکشاف ہوا تھا، جس کے بعد یہ اسلام آباد میں دوسرا بڑا واقعہ سامنے آیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہناہے کہ
اسلام آباد میں گدھے کے گوشت کی برآمدگی ایک سنجیدہ مسئلہ کو اجاگر کرتی ہے وہ ہے خوراک کے نظام میں شفافیت اور نگرانی کی کمی۔ اس واقعے سے تین بڑے پہلو سامنے آتے ہیں۔
1. عوامی صحت کو لاحق خطرات: گدھے کا گوشت انسانی صحت کے لیے نہ صرف غیر محفوظ ہو سکتا ہے بلکہ اسے ذبح کرنے، ذخیرہ کرنے اور پکانے کے لیے کوئی واضح معیار موجود نہیں، جو مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔
2. بین الاقوامی اسمگلنگ یا مقامی فراہمی؟
ابتدائی رپورٹ میں گوشت کو بیرون ملک سپلائی کرنے کا اشارہ ہے، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اس کاروبار کے پیچھے ایک منظم نیٹ ورک موجود ہو سکتا ہے۔ تاہم اس بات کی بھی تفتیش ضروری ہے کہ کہیں یہ گوشت اسلام آباد اور گردونواح کے ہوٹلوں یا گوشت مارکیٹس تک تو نہیں پہنچایا جا رہا تھا۔
3. قانونی و انتظامی کمزوریاں
اس کیس سے فوڈ سیفٹی قوانین اور ان پر عمل درآمد کی سطح پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ اگر ایک غیر ملکی شہری ایسی سرگرمی میں ملوث ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی سطح کا معاملہ بھی ہو سکتا ہے۔

