کچ میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اہم اجلاس، اعلیٰ حکام کی شرکت

تربت(گدروشیا پوائنٹ/ ماجد صمد) ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کیچ کا خصوصی اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسپیشل سیکریٹری ہیلتھ بلوچستان شیہک شہداد بلوچ اور ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جبکہ صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، صوبائی ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ محمد امین مندوخیل اور دیگر افسران نے کوئٹہ سے آن لائن شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے آن لائن گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تربت سمیت بلوچستان میں اسپتالوں کی حالت بہتر اور ڈاکٹر سمیت ملازمین کو 8 گھنٹے ڈیوٹی کا پابند ہیں پابندی نہ کرنے والوں کیخلاف کارروائی کی جائیگی اور اے آئی حاضری نہ لگانے والوں کا پہلے مرحلے میں 15 دن کی تنخواہ کاٹی جائیگی حکومت مریضوں کے جان کو خطرات میں نہیں ڈال سکتی ہے۔ صوبائی وزیر صحت نے تربت کے صحت کے مسائل کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے خصوصی اجلاس طلب کرنے پر اسپشل سیکرٹری شہیک بلوچ کی کاوشوں کی تعریف کیا۔ اس کے علاوہ اجلاس میں ضلع کیچ میں صحت کے نظام، مختلف بیماریوں، ٹیچنگ اسپتال تربت اور بی ایچ یوز آر ایچ سیز کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ضلع کیچ میں بڑھتی ہوئی ڈینگی بیماری کے سبب اجلاس کے دوران صوبائی وزیر صحت اور اسپیشل سیکریٹری صحت کی اجازت سے ڈپٹی کمشنر کیچ نے ضلع میں ڈینگی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا جبکہ ڈینگی، ملیریا، ہیپاٹائٹس، ایچ آئی وی، ٹی بی اور ای پی آئی سے متعلق رپورٹس پیش کر کے فوری اقدامات کی ہدایت دی گئی۔ اس موقع پر محکمہ صحت کے صوبائی کوآرڈینیٹر بی ایچ ایم آئی ایس ڈاکٹر ابابگر بلوچ نے ضلع کیچ میں ڈینگی وائرس کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا اور بتایا کہ جب وہ ڈی ایچ او کیچ تھے تو تقریباً سولہ ہزار سے زیادہ کیسز آئے اور بیس سے زیادہ موات ہوئیں یہاں روزانہ ٹسٹ کی ضرورت ہے ڈی ایچ او کیچ کو ہزاروں کی تعداد میں اسکریننگ کیٹس کی ضرورت ہے ۔ جبکہ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر دشتی نے صوبائی وزیر صحت کو حالیہ بارشوں کے باعث ڈینگی وائس کے ممکنہ پھیلاؤ پر آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے ایک ہفتے میں ایک درجن کے قریب پازیٹو کیسز آئے جو تشویش ناک ہے۔ڈپٹی کمشنر کیچ نے فوری طور ضلع کے لیے ہنگامی بنیادوں پر پانچ سے دس ہزار کٹس فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جس پر صوبائی وزیر نے ڈی جی ہیلتھ کو احکامات جاری کردیئے۔ اسپیشل سیکریٹری صحت شیہک بلوچ نے ٹیچنگ ہسپتال تربت کے دوروں کے بعد کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں مس مینجمنٹ، ادویات کی کمی، شام کے اوقات میں سروسز کی بندش اور عملے کی غیر حاضری جیسے مسائل سنگین نوعیت اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک ماہ کے اندر کارکردگی بہتر نہ ہونے کی صورت میں ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے صوبائی وزیر نے صوبائی اسپیشل سیکریٹری اور ڈپٹی کمشنر کو فوری کارروائی کرنے کی ہدایت کی کہ صحت کے معاملے پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جائے جو کارکردگی پیش نہیں کرتا، جو اے آئی کے ذریعے حاضری نہیں لگاتا، جن 31 ملازمین نے اپنے پروفائل نہیں بنوائے ہیں انکے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اجلاس میں اسپیشل سیکریٹری شہیک بلوچ نے ٹیچنگ اسپتال تربت میں 30 دن کے اندر چائلڈ لائف فاؤنڈیشن (CLF) اسٹیشن مکمل اور جلد افتتاح کا اعلان بھی کیا انہوں نے کہاکہ شعبہ ایمرجنسی میں 24 گھنٹے ڈاکٹرز کی موجودگی کیلئے 15 ڈاکٹرز تعینات کردیا ہے جن میں 12 نے جوائنگ دی ہے اب ایم ایس اور ڈپٹی کمشنر انہیں ڈیوٹی کا پابند کرکے ان سے کام لیں اور ٹیچنگ اسپتال تربت میں 150 ڈاکٹرز کی ڈیوٹی کا مؤثر روٹیشن پلان ترتیب دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس دوران صوبائی وزیر صحت بخت میں کاکڑ نے ٹیچنگ اسپتال میں ہیلتھ کارڈ کے تحت سروسز بڑھانے ، ڈاکٹروں کی ماہانہ کارکردگی کی جانچ اور پرائیویٹ پریکٹس کے ڈیٹا کی مانیٹرنگ کی بھی ہدایت دی کہ وجوہات معلوم کیئے جائیں سرکاری گائناکالوجسٹ ڈاکٹر سول اسپتال کے بجائے پرائیویٹ اسپتالوں زچہ بچہ علاج کیسے کررہی ہیں۔ شرکاء کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضلع میں ایچ آئی وی کے 400 سے زائد کیسز رجسٹرڈ ہیں جبکہ ٹی بی کے علاج کے لیے چار سینٹرز فعال ہیں۔ ڈینگی کے اب تک 14 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور مزید اضافے کے خدشے کے پیش نظر آئسولیشن وارڈ کے قیام اور ایمرجنسی اقدامات کی ہدایت کی گئی۔ ملیریا کے حوالے سے فوری طور پر مزید ٹیسٹنگ کٹس کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ صوبائی وزیر صحت نے ڈپٹی کمشنر کیچ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں مکمل اختیارات دینے کا اعلان کیا اور ہدایت کی کہ سرکاری ہسپتالوں میں کسی بھی غفلت پر اور ڈاکٹرز اور دیگر ملازمین کی کارکردگی کی بنیاد پر فوری ایکشن لیں اور ان کے تنخواہوں کی کٹوتی اور حتی کہ ضلع سے باہر ٹرانسفر کرنے کے اختیارات دینے کا اعلان کرتے ہوئے ضلع کیچ میں صحت کی ہر ممکن اور بہترین سہولیات پہنچانے کی فیصلہ کیا۔ صوبائی وزیر صحت نے ہدایت کی کہ گزشتہ ایک ماہ کا ریکارڈ نکالا جائے تاکہ یہ جائزہ لیا جا سکے کہ کس ڈاکٹر نے سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں کتنے کیسز نمٹائے، کتنے آپریشن کیے اور گائناکالوجسٹ نے ڈلیوری کیسز میں کہاں اور کتنے آپریشن انجام دیئے اور جو ٹیچنگ اسپتال میں صحت کارڈ کے تحت علاج، آپریشن کیلئے مزاحمت کرتا ہے انکے نام بھیجے جائیں کارروائی کرینگے۔ اسپیشل سیکریٹری ہیلتھ شیہک بلوچ نے اس پر فوری عملدرآمد کرتے ہوئے دو دن کے اندر تمام ڈاکٹرز کا مکمل ڈیٹا سیکریٹری صحت کو فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تاکہ انکے خلاف صوبائی سطح پر کارروائیاں کی جاسکیں۔ ڈپٹی کمشنر کیچ اور اسپیشل سیکریٹری ہیلتھ دونوں نے ٹیچنگ ہسپتال تربت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے سیکریٹری صحت کو اسٹاف کی تعداد، غیر حاضری اور ہسپتال میں بدانتظامی سے متعلق آگاہ کیا۔ جبکہ ایم ایس ڈاکٹر عبدالوحید بلیدی نے ٹیچنگ ہسپتال تربت میں ہیلتھ کارڈ کی بحالی کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ برسوں سے میڈیکل اسٹور کے بقایاجات کی وجہ سے سروسز معطل تھیں تاہم حال ہی میں متبادل انتظام کرکے ہیلتھ کارڈ کو دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ تربت کی شدید گرمی میں میڈیکل اسٹورز اور ویئر ہاؤسز میں ٹیمپریچر مینٹین نہیں ہے ضلع کے کچھ اسٹوروں میں ایئر کنڈیشن نہیں ہے صوبائی وزیر کی اجازت سے ایسے اسٹوروں کیخلاف کارروائی کرکے سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں صوبائی وزیر صحت اور سیکرٹری صحت کی اجازت سے صوبائی اسپیشل سیکریٹری شہیک بلوچ نے کہاکہ ٹیچنگ اسپتال تربت کو اب باقاعدہ ڈویژنل ریجنل اسپتال کا درجہ دیا جارہا ہے جس میں تمام سہولیات ہوں تاکہ تربت سمیت ضلع گوادر اور پنجگور کے مریض سیریس علاج اور آپریشن کیلئے کراچی اور کوئٹہ کے بجائے تربت شہر کی اسپتال کا رخ کریں تاکہ لمبے سفر سے مریضوں کی جان بچ جائے اور مالی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ بورڈ کا نوٹیفکیشن کی جائیگا تاکہ بجلی، ادویات ، ڈاکٹر اور دیگر ملازمین کیخلاف کارروائی سمیت تمام فیصلے مقامی سطح پر فوری ہوں تاکہ اسپتالوں کی کارکردگی معیاری اور مثالی ہوں۔ اسپتال کے ایچ آر سمیت مختلف 15 معاملات کو فوری ڈیجیٹلائز کیا جارہا ہے۔ تربت سمیت بلوچستان کے تمام اسپتالوں میں سانپ اور کتا کاٹنے کے ویکسین موجود ہیں ویکسین ، ادویات اور ڈاکٹرز کے متعلق شکایات ہوں تو محکمہ صحت بلوچستان کے شکایت نمبر 1121 پر اطلاع دیں صوبائی سطح پر فوری کارروائی ہوگی۔ اجلاس میں ڈویژنل ڈائریکٹر مکران ڈاکٹر محب اللہ، ڈی ایچ او کیچ ڈاکٹر عبدالرؤف بلوچ، صوبائی ڈائریکٹر آئی پی ایچ ڈاکٹر اختر بلیدی ، ڈپٹی ڈیچ ایچ او ڈاکٹر عزیز دشتی، اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کاکڑ، زیر تربیت اسسٹنٹ کمشنرز ڈاکٹر ماہ نور برکت، نعمان منیر، فارماسسٹ اکرم بلوچ، این آر ایس پی اور پی پی ایچ آئی کے نمائندے سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔