تربت(گدروشیا پوائنٹ/ماجد صمد) صوبائی اسپیشل سیکریٹری صحت بلوچستان شیہک شہداد بلوچ نے جمعرات کے روز مکران میڈیکل کالج تربت کا دورہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی، صوبائی کوآرڈینیٹر بی ایچ ایم آئی ایس ڈاکٹر ابابکر بلوچ اور دیگر ان کے ہمراہ تھے۔ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر افضل خالق نے انہیں اکیڈمک شعبے سمیت کالج کی مجموعی کارکردگی اور صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی اور درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مکران میڈیکل کالج تربت کا سیشن 2017 میں شروع ہوا، جبکہ اپنی بلڈنگ بننے کے بعد 2020 میں مین کیمپس میں منتقل ہوگئے۔ اس وقت 326 اسٹوڈنٹس زیر تعلیم ہیں اور ہر سال 50 اسٹوڈنٹس داخلہ لیتے ہیں۔ میڈیکل کالج کی اراضی 300 ایکڑ پر مشتمل ہے، جن میں سے اب تک 200 ایکڑ تک چار دیواری تعمیر ہو چکی ہے جبکہ باقی 100 ایکڑ اراضی کو محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالج میں 143 پوسٹیں خالی ہیں، جن میں 73 لوئر اسٹاف اور 70 بیسک و کلینیکل ٹیچرز شامل ہیں۔ کالج کے احاطے میں ایک کوارٹر کو ڈسپنسری بنایا گیا ہے، جسے بی ایچ یو کا درجہ دے کر پی پی ایچ آئی میں رجسٹرڈ کروایا جائے تاکہ اسے فعال بنایا جا سکے۔ بجلی کے 65 لاکھ روپے کے بقاجات ہیں، جبکہ لیبارٹری کے لیے اناٹومی ٹیبل کی ضرورت ہے تاکہ تھری ڈی نما انسانی ڈھانچے کے ذریعے اسٹوڈنٹس کو بہتر طریقے سے سکھایا جا سکے۔ لیبارٹری کے لیے کتابوں کی بھی فوری ضرورت ہے۔
اسپیشل سیکریٹری شیہک بلوچ کی سفارش پر ڈپٹی کمشنر یاسر دشتی نے لائبریری کے لیے کتابیں اور لیبارٹری کے لیے اناٹومی ٹیبل خریدنے کی یقین دہانی کرائی۔ مسائل کے حل کے لیے اسپیشل سیکریٹری شیہک بلوچ نے یقین دہانی کرائی اور اجلاس کے دوران متعلقہ اعلیٰ حکام سے رابطہ کرکے مکران میڈیکل کالج کو درپیش مسائل کے فوری حل کی ہدایت کی۔ اس دوران میڈیکل کالج کے پروجیکٹ انجینئر ظہور احمد نے ترقیاتی اسکیموں پر بریفنگ دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ جون تک کام مکمل کر لیا جائے گا جس پر اسپیشل سیکریٹری اور پرنسپل نے انہیں تاکید کی کہ کام مزید تیز کیا جائے۔ بعد ازاں انہوں نے نو تعمیر شدہ میڈیکل کالج کے کانفرنس ہال کا معائنہ کیا اور انجینئر کو ہدایت دی کہ ایکو سسٹم نصب کیا جائے، کرسیاں مکمل کی جائیں اور ہال کے سامنے کے لک کو بہتر بنایا جائے۔ اس دوران انہوں نے حکومت پنجاب کے فنڈ سے زیر تعمیر 200 بستروں پر مشتمل اسپتال کے کام کا بھی جائزہ لیا، جہاں انجینئر نے یقین دہانی کرائی کہ فنڈز بروقت ملنے کی صورت میں یہ منصوبہ 2027 تک مکمل کر لیا جائے گا۔ جس پر اسپیشل سیکریٹری نے صوبائی وزیر صحت اور سیکریٹری صحت سے بات کرکے اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔ دریں اثنا اسپیشل سیکریٹری صحت شیہک بلوچ نے بریفنگ نشست کے دوران بتایا کہ مکران میڈیکل کالج کی کامیابی کے لیے ٹیچنگ اسپتال کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ہم کسی ڈاکٹر کے خلاف نہیں ہیں وہ ہمارے لیے قابل احترام ہیں اور عظیم خدمات انجام دے رہے ہیں، لیکن صوبائی وزیر صحت سمیت ہمارا سختی کرنے کا مقصد ڈاکٹرز کو یہ احساس دلانا ہے کہ اداروں کی بہترین کارکردگی ہی ادارے کی ترقی اور توسیع کا ذریعہ بنتی ہے۔ تاہم ٹیچنگ اسپتال تربت کا موجودہ نظام اور صورتحال مکران میڈیکل کالج کے معیار کے مطابق نہیں ہے۔ مزید بہتری کے لیے ڈاکٹرز کے تعاون کی ضرورت ہے۔ ہم ہمیشہ کے لیے اسپیشل سیکریٹری صحت نہیں رہیں گے، کل کسی اور محکمے میں ہوں گے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ اپنے دور میں بلوچستان، بالخصوص ہوم ڈویژن مکران کے اسپتالوں کی حالت نہ صرف بہتر بلکہ معیاری اور مثالی بناسکیں۔

