تربت (گدروشیا پوائنٹ) ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کمیٹی کا اہم اجلاس بدھ کے روز منعقد ہوا جس میں ضلع بھر کی تعلیمی صورتحال، اسکولوں کی فعالیت، اساتذہ کی حاضری اور جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کیچ امجد شہزاد، ڈپٹی ڈی ای او تربت محمد نعیم بلوچ، زیر تربیت اسسٹنٹ کمشنرز نعمان منیر اور ڈاکٹر ماہ نور برکت سمیت محکمہ تعلیم، سوشل ویلفیئر اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ضلع کیچ میں 102 کلسٹرز کے تحت 718 اسکول فعال ہیں، جن میں سے 116 عمارتوں سے محروم (شیلٹر لیس) ہیں، جبکہ 70 اسکول مختلف منصوبوں کے تحت چلائے جا رہے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے شہری حدود سے باہر متعدد اسکولوں کی بندش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری گراؤنڈ ویری فکیشن کے احکامات جاری کیے۔ ڈپٹی کمشنر نے کرونک غیر حاضر اساتذہ کی مکمل رپورٹ طلب کرتے ہوئے ڈی ای او کیچ کو ہدایت کی کہ ان کے خلاف فوری تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نئے تعینات اساتذہ کی غیرحاضری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید ہدایت دی کہ ہیڈماسٹرز، معتبرین اور مقامی آبادی کے ساتھ رابطہ کرکے اسکولوں کی اصل صورتحال، طلبہ کی حاضری اور داخلہ مہم سے متعلق جامع رپورٹ تیار کی جائے۔ اس موقع پر سول سوسائٹی کے کنوینر گلزار دوست نے زامران اور سب تحصیل ہوشاپ میں بند اسکولوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کی فوری بحالی پر زور دیا۔ اجلاس میں انکشاف ہوا کہ بعض ترقیاتی اسکیمیں مقررہ مدت گزرنے کے باوجود تاحال نامکمل ہیں، جس پر ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ ٹھیکیداروں کو بلیک لسٹ کرنے کی ہدایت جاری کی۔ ایکسین بی اینڈ آر کو بھی ہدایت دی گئی کہ نامکمل اسکولوں کی تفصیلات اور تاخیر کی وجوہات پر مشتمل رپورٹ پیش کریں۔ تعلیمی منصوبوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ ای ایس پی پروگرام کے تحت 2023 سے اب تک 200 اسکول تعمیر کیے جا چکے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے ان اسکولوں کی آن گراؤنڈ تصدیق ہیڈماسٹرز اور ڈپٹی ڈی ای اوز کے ذریعے کرانے کی ہدایت کی، جبکہ یونیسف فنڈز کے شفاف استعمال اور مکمل احتساب کو بھی یقینی بنانے کا حکم دیا۔
داخلہ مہم پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 18 ہزار کے ہدف کے مقابلے میں اب تک 3 ہزار سے زائد بچوں کا داخلہ کیا جا چکا ہے۔ تاہم ڈراپ آؤٹ ڈیٹا کی عدم دستیابی پر ڈپٹی کمشنر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر مکمل ڈیٹا فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ درسی کتب کی ترسیل مکمل ہو چکی ہے اور بیشتر اسکولوں میں تقسیم بھی کی جا چکی ہے، جبکہ فلائٹ پروگرام کے تحت 200 اساتذہ کو تربیت دی جا چکی ہے۔ اخر میں ڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ افسران کو ایک ہفتے کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آئندہ اجلاس اگلے منگل کو منعقد ہوگا، جس میں پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

