”پُرامن جدوجہد اور ریاستی جبر”
تحریر: شئے ریاض احمد
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، انسانی حقوق کی پامالیوں، بدترین معاشی بحران، پرامن و جمہوری جدوجہد پر قدغن ،ٹارگٹ کلنگ، مسخ شدہ لاشوں،چادر و چار دیواری کی پامالی، خوف و وحشت اور سیاسی جہدکاروں کی بے جا گرفتاریوں اور ان پر جھوٹے مقدمات درج کرنے کا سلسلہ جاری و ساری ہے ۔ ان تمام سخت صورتحال میں پرامن سیاسی و جمہوری جدوجہد پر قدغن کے باوجود بلوچ خاموش نہیں بلکہ وہ اپنے قومی شناخت، قومی حقوق، معاشرتی مسائل ،ساحل و وسائل، جان و مال کا تحفظ اور ریاستی غیر جمہوری، غیر آئینی، غیر سنجیدہ پالیسیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہے ۔ان کھٹن حالات میں نوجوان مرد و خواتین، بوڈھے، بچے،بچیاں اور یہاں تک کے 80 اسی سالہ بلوچ بہادر مائیں اس کاروان میں شامل ہیں جن کے جگر گوشوں کو ریاستی جبری گمشدگی کا شکار بناکر لاپتہ کیا گیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ان کے مطالبات آئینی نہیں ؟ کیا ملک کا ہر شہری اپنی فریاد کا حق نہیں رکھتا ؟ کیا ریاستی آئین ہر شہری کی جان و مال اور آزادانہ زندگی گزارنے انہیں تحفظ دینے کا مجاز نہیں ؟ کیا ریاستی قانون و آئین میں روزگار، مفت تعلیم، صحت کی سہولیات اور انسانی بنیادی حقوق کے شق شامل نہیں؟
ریاست کی بنائی ہوئی دستور کے آرٹیکل 14 کسی بھی شخص کی جان یا آزادی سے محروم کرنے سے روکتی ہے سوائے مجرم کو کسی بھی جرم سے قانون کے مطابق کارروائی کے۔ اسی طرح آرٹیکل 9 کسی بھی شخص کو اس کی زندگی اور آزادی سے محروم کرنے سے روکتی ہے، سوائے قانون کے مطابق کارروائی کے۔
دستور پاکستان کے ان آرٹیکل کے مطابق آئین ہر شہری کو چاہے وہ کسی صوبہ،مذہب، رنگ و نسل سے تعلق رکھتا ہو ان کی جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے اور ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ شہروں کے حقوق کا تحفظ کریں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے جب ریاست خود اپنے شہریوں کی حقوق غصب کرے،ان کے جائز مطالبات پر عمل درآمد کرنے کے بجائے پر تشدد اقدامات کے ذریعے خوف و ہراس پھیلائے،زور آزمائی کرے سنجیدہ اور حق و سچ کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کرے ،پرامن ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کرے تو اسکے نتائج ریاستی خواہشات کے برعکس نکلیں گے اور اسکی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوگی۔
“پاکستان کے معروف صحافی و تجزیہ نگار ثقلین امام اپنی کالم میں لکھتے ہیں کہ پاکستان میں جائز سماجی و معاشی شکایات اور مسلح علیحدگی پسندوں کے اقدامات میں فرق نہ کرنے کی ریاستی ناکامی نے بحران کو مزید بڑھا دیا ہے۔ تمام بلوچ اختلافات خواہ وہ پُرامن ہوں یا پرتشدد ان کو سکیورٹی کے دائرے میں لانے سے مقامی آبادی کی ریاست سے دوری میں اضافہ ہوا ہے اور باغی جنگجوؤں کو اخلاقی جواز حاصل ہوا۔ ترقیاتی ایجنڈے اور انسدادِ بغاوت کی پالیسی کو الگ الگ رکھنے کے بجائے، اسلام آباد نے اکثر فوجی حل اپنایا، جس سے وہی بغاوت مزید مضبوط ہوئی جس کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے “۔
” اسی طرح وہ آگے بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ” پاکستانی ریاست کی یہ صلاحیت یا شاید عدمِ خواہش کہ وہ خارجی استحصال اور داخلی بے چینی دونوں سے نمٹ سکے، اسی خلا کو بڑھاتی ہے جس میں ایسی ہم آہنگیاں اور نیکسس پروان چڑھتے ہیں۔ اس سارے کھیل میں ریاست پاکستان کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ اس نے پرامن احتجاج اور دہشت گردی میں فرق نہ رکھ کر تقریباً تمام بلوچ نوجوانوں کو حاشیے پر کھڑا کردیا ہے اور یہ اب ریاست مہرنگ بلوچ اور بندوق برداروں میں فرق بھی نہیں جانتی ہے”۔ آخر میں وہ لکھتے ہیں “جب ریاست اپنی نااہلی چھپانے کے لیے صرف بندوق کا سہارا لے گی، تو وہ دانستہ طور پر اپنے وجود کو کمزور کرے گی اور تباہی کی ذمہ دار خود ہو گی “۔
جب ہم ریاستی ظلم و ناانصافیوں پر بات کرتے ہیں تو انکی بنیادی وجہ ریاستی زمہ داران کی اپنی غیر آئینی ہتھکنڈے ہیں جو عرصہ دراز سے بلوچستان میں کار فرما ہیں اسکی مثال بلوچ سیاسی جہدکار کامریڈ بیبو بلوچ کی والد کو محض اس لئے بند کیا گیا ہے کہ انکی بیٹی سیاسی آئینی جدوجہد کا حصہ ہیں ۔ اسی طرح بلوچ قومی جہدکار ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کی والد کا جرم ڈاکٹر صبیحہ کا والد ہونا ہی ہے جسے تین مہینے سے پابند سلاسل کیا گیا ہے ۔ کیا سردار اختر جان مینگل اور انکی فیملی پر جھوٹے مقدمات اس لئے نہیں بنائے گئے کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھاتے ہیں ؟
آج ایک بار پھر بلوچستان کی مائیں، بہنیں بیٹے اور بیٹیاں اسلام آباد پریس کلب کے سامنے سراپا احتجاج ہیں ایک امید لیکر لیکن یوں لگتا ہے کہ ریاست نے طے کیا ہے کہ بلوچستان کے لوگوں کو ہر لحاظ سے اپنی آئینی جدوجہد سے محروم رکھا جائے،ان سے ہر قانونی، انسانی اور جمہوری حق چھین لیا جائے،بلوچستان کے لوگوں کو نہ سنا جائے اور نہ بولنے دیا جائے بلکہ طاقت کے زور پر انہیں خاموش کیا جائے ۔قید و بند کیا جائے،لاپتہ کیا جائے ،ان کے ساتھ وہ سلوک روا رکھا جائے جو انکی پر امن آئینی جدوجہد اور حق ہے انکے مشکلات میں اضافہ کیا جائے، ایک پولیس ایس ایچ او کی ٹینٹ کے لاٹھیوں پر کھڑا ہونا ،بارش میں ٹینٹ لگانے نہ دینا ،ڈرانا دھمکانا،اسپیکر اور جنریٹر والے کو پولیس کی جانب سے دھمکی دینا ،پولیس کی جانب پر تشدد ماحول پیدا کرنے کی ناکام کوششیں یہ محض طاقت کا مظاہرہ یا طاقت دیکھنا نہیں یہ صرف معمولی سی امید جو انصاف کی حصول کیلئے کیا جا رہا ہے جو اپنائیت کا مظہر اور شنوائی کی کرنیں دلوں میں ذرا برابر رہ گئی تھی اسے بھی ریاستی جبر، غیر جمہوری روش اور طاقت کے استعمال سے کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے تانکہ بلوچستان میں ناامیدی کی فضا جو قائم و دائم ہے اس میں اضافہ ہو، محرومی،نفرت، بے گانگی،بے بسی، بے وسی، در پہ دری گہری اور وسیع بن جائے، حکومتی روش بلوچستان کے زخموں کو نمک چڑکنے کے برابر ہے جس سے مزید عداوتیں اور دوریاں جنم لے رہی ہیں۔
اسلام آباد میں نادیہ بلوچ،ماہ زیب بلوچ، فوزیہ بلوچ اور معصوم و مظلوم بلوچ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ تمام جبری اسیران کو بازیاب کیا جائے ،لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے اور انکے لواحقین کو آرام سے زندگی جینے کا حق دیا ہے جو ہر شہری کا آئینی حق ہے ، میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک بلوچ ماں نے کہی” ہم یہاں اس امید سے آئے ہیں کہ ہمیں انصاف دیا جائے گا ہمارے لاپتہ لوگوں کو بازیاب کیا جائے گا لیکن یہاں آکر ہمیں خوفزدہ کیا جارہا ہے ۔ہمیں فکر ہے لاپتہ افراد کا کہ وہ ٹارچر سیلوں میں کس کرب میں ہونگے کس اذیت سے گزر رہے ہوں گے ؟ ان پر کیا تشدد کی جارہی ہوگی؟ لیکن ہم اپنی جمہوری اور آئینی حق استعمال کرتے ہوئے یہاں احتجاج کریں گے چاہے بارش ہو،آندھی ہو ، کوئی قدرتی یا ریاستی طوفان آئے ہم اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے ۔
اب یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے کتنے سنجیدہ ہو کر معاملات کو کیسے سلجھائیں گے اور ایک پر امن ماحول اور فضا کو بلوچستان میں پروان چڑھائیں گے یا اپنی من مانی ،عداوت، زورآوری کو جاری و ساری کرکے غیر معمولی حالات کے نتائج کا انتظار کریں گے تاریخ گواہ ہے کہ ظلم سہنے والے ظلم کرنے والے پہ غالب رہے ہیں یہ عمل بالکل ریاست کے حق میں نہیں ہوگا۔

