تربت(گدروشیا پوائنٹ) بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) ضلع کیچ کا ضلعی ورکرز کنونشن آج بتاریخ 18 جولائی کو سرکٹ ہاؤس میں ضلعی صدر سید عابد نور کی صدارت میں منعقد ہوا۔ کنونشن کے مہمانِ خصوصی پارٹی کے مرکزی نائب صدر ظریف زدگ بلوچ، جبکہ اعزازی مہمان مرکزی کمیٹی کے رکن زاہد کریم ایڈووکیٹ تھے۔ اجلاس میں گوادر اور کیچ کے پارٹی رہنماؤں نے بھی شرکت کی اور اظہارِ خیال کیا۔ مرکزی نائب صدر ظریف زدگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ رہنماؤں نے ایم پی اے اسد بلوچ کی پنجگور میں گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بلوچستان اسمبلی میں بلوچ قومی حقوق، ساحل اور وسائل کے تحفظ پر کھل کر بات کرنے کی پاداش میں جھوٹی ایف آئی آر کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) ضلع کیچ کا ضلعی ورکرز کنونشن آج بروز 18 جولائی کو سرکٹ ہاؤس میں ضلعی صدر سید عابد نور کی صدارت میں منعقد ہوا۔ کنونشن کے مہمانِ خصوصی پارٹی کے مرکزی نائب صدر ظریف زدگ بلوچ، جبکہ اعزازی مہمان مرکزی کمیٹی کے رکن زاہد کریم ایڈووکیٹ تھے۔ اجلاس میں گوادر اور کیچ کے پارٹی رہنماؤں نے بھی شرکت کی اور اظہارِ خیال کیا۔
مرکزی نائب صدر ظریف زدگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ رہنماؤں نے ایم پی اے اسد بلوچ کی پنجگور میں گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بلوچستان اسمبلی میں بلوچ قومی حقوق، ساحل اور وسائل کے تحفظ پر کھل کر بات کرنے کی پاداش میں جھوٹی ایف آئی آر کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔
مقررین نے کہاکہ بی این پی عوامی سے چند افراد کی علیحدگی کا بی این پی (عوامی) پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔ آج کے ورکرز کنونشن میں کارکنوں کی بھرپور شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ پارٹی نہ کمزور ہوئی ہے اور نہ ہی ختم ہوئی ہے۔ بی این پی (عوامی) ایک جمہوری اور پارلیمانی پارٹی ہے، جو مسلسل عوامی مسائل کے حل اور قومی حقوق کے تحفظ کے لیے میدان میں موجود ہے۔
کنونشن کے دوران متعدد عوامی مطالبات پر مبنی قراردادیں بھی پیش کی گئیں جن میں عبدوئی بارڈر پر آزادانہ تجارت کی بحالی، تمام بلوچ اسیران کی فوری رہائی، عام انتخابات میں مداخلت ختم کرنے اور فارم 47 کے خاتمے، غیر ضروری چیک پوسٹوں کے خاتمے، اور مکران کے تمام اضلاع میں کم از کم 20 گھنٹے بجلی کی فراہمی جیسے نکات شامل تھے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ مکران میں بجلی کی کوئی میگاواٹ شارٹ فال موجود نہیں، اس لیے عوام کو جان بوجھ کر محرومی کا شکار کیا جا رہا ہےساحلی علاقوں میں غیر قانونی ٹرالنگ کے خاتمے کا مطالبہ بھی زور دیا گیا۔ انہوں نےکہا کہ پارٹی اپنی جدوجہد ہر صورت جاری رکھے گی اور عوامی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ مقررین نے کہاکہ پارٹی اپنی جدوجہد ہر صورت جاری رکھے گی اور عوامی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی انہوں نے کہاکہ بی این پی عوامی سے چند افراد کی علیحدگی کا بی این پی (عوامی) پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔ آج کے ورکرز کنونشن میں کارکنوں کی بھرپور شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ پارٹی نہ کمزور ہوئی ہے اور نہ ہی ختم ہوئی ہے۔ بی این پی (عوامی) ایک جمہوری اور پارلیمانی پارٹی ہے، جو مسلسل عوامی مسائل کے حل اور قومی حقوق کے تحفظ کے لیے میدان میں موجود ہے۔ کنونشن کے دوران متعدد عوامی مطالبات پر مبنی قراردادیں بھی پیش کی گئیں جن میں عبدوئی بارڈر پر آزادانہ تجارت کی بحالی، تمام بلوچ اسیران کی فوری رہائی، عام انتخابات میں مداخلت ختم کرنے اور فارم 47 کے خاتمے، غیر ضروری چیک پوسٹوں کے خاتمے، اور مکران کے تمام اضلاع میں کم از کم 20 گھنٹے بجلی کی فراہمی جیسے نکات شامل تھے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ مکران میں بجلی کی کوئی میگاواٹ شارٹ فال موجود نہیں، اس لیے عوام کو جان بوجھ کر محرومی کا شکار کیا جا رہا ہے۔ ساحلی علاقوں میں غیر قانونی ٹرالنگ کے خاتمے کا مطالبہ بھی زور دیا گیا۔

