جامعہ بلوچستان میں کوئٹہ کے مختلف جامعات کے فیکلٹی ممبران کے لیے سوشل انٹرپرینیورشپ پر سیمینار کا انعقاد کیاگیا

جامعہ بلوچستان میں کوئٹہ کے مختلف جامعات کے فیکلٹی ممبران کے لیے سوشل انٹرپرینیورشپ پر سیمینار کا انعقاد کیاگیا۔

کوئٹہ (گدروشیا پوائنٹ) جامعہ بلوچستان میں ایک روزہ سیمینار سوشیل انٹرپرینیورشپ: مواقع اور پائیداری کی کوششیں” کے عنوان سے ایک روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جو NACTA اور (UNODC) کے اشتراک سے منعقد ہوا۔ اس سیمینار میں الحمْد اسلامک یونیورسٹی کوئٹہ، سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی، بیوٹمز، اور جامعہ بلوچستان کے فیکلٹی ممبران نے بھرپور شرکت کی۔

سیمینار کا مقصد فیکلٹی اراکین کو سوشل انٹرپرینیورشپ، پائیدار ترقی، اور کمیونٹی ریزیلینس سے متعلق جدید رجحانات سے روشناس کرانا تھا۔

تقریب کا افتتاح جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی نے کیا۔ انہوں نے شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کی ذمہ داری صرف نصابی تعلیم تک محدود نہیں بلکہ ان کا کردار معاشرتی شعور اجاگر کرنے اور مثبت تبدیلی کے فروغ میں بھی نہایت اہم ہے۔

پروفیسر سید حسین حیدر، نمائندہ UNODC، نے کلیدی خطاب میں UNODC کے وژن، نوجوانوں کی شرکت، اور سوشل انٹرپرینیورشپ کے ذریعے کمیونٹی کی مضبوطی پر مفصل روشنی ڈالی۔ انہوں نے مقامی جامعات اور بین الاقوامی اداروں کے مابین اشتراکِ عمل کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

ڈاکٹر طاہر رشید، چیف ایگزیکٹو بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام (BRSP)، اور ڈاکٹر سید ارسلان شاہ نے اپنے خطابات میں سوشل انٹرپرینیورشپ پر مبنی منصوبوں، ان کے معاشرتی اثرات، اور کمیونٹی بیسڈ حل کی افادیت پر زور دیا۔

سیمینار کے دوران ایک جامع ایکسپرٹ پینل ڈسکشن کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف جامعات اور اداروں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے شرکت کی۔ اس سیشن میں سوشل انٹرپرینیورشپ، حکومتی پالیسی سازی، اور مقامی سطح پر پائیدار ترقی کے چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ مقررین نے تحقیق و تعلیم کے میدان میں اداروں کے فعال کردار کو اجاگر کیا۔

اس کے علاوہ، سیمینار میں انٹرایکٹو سیشنز، کیس اسٹڈیز، اور فیکلٹی تجربات کا تبادلہ بھی شامل تھا، جن میں شرکاء نے معاشرتی مسائل کے حل میں انٹرپرینیورشپ کی اہمیت پر گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

تقریب کے اختتام پر شرکاء میں اسناد جبکہ مہمانانِ گرامی کو اعزازی شیلڈز پیش کی گئیں۔