سیاس کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ، لواحقین کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس

اسلام آباد (گدروشیا پوائنٹ)بلوچ یکجہتی کمیٹی کے متاثرہ خاندانوں اور رہنماؤں نے اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور سیاسی و سماجی کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
رہنماؤں نے کہا کہ وہ یہاں صرف اپنا دکھ بیان کرنے نہیں بلکہ اُن پُرامن سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنان کی نمائندگی کرنے آئے ہیں جو اس وقت حراست میں ہیں۔ ان میں ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ، شاجی صبغت اللہ بلوچ، بیبگر بلوچ، گلزادی بلوچ، بیبو بلوچ، ماما غفار بلوچ اور عمران بلوچ شامل ہیں۔

ان کے اہلخانہ کے مطابق، 19 مارچ 2024 کو کوئٹہ پریس کلب میں منعقد ہونے والی ایک پریس کانفرنس کے بعد ان افراد کو گرفتار کیا گیا۔ پریس کانفرنس کا مقصد صرف بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنوں کو درپیش مسائل اور مبینہ ریاستی دباؤ کو اجاگر کرنا تھا، لیکن بعد ازاں ان واقعات کو دہشتگردی کے ایک واقعے سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔

رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ مذکورہ افراد کو پہلے 3 ایم پی او کے تحت حراست میں رکھا گیا اور پھر کیس کو مختلف قانونی مراحل سے گزار کر ان کی گرفتاری کو طول دیا گیا، حالانکہ عدالتوں سے رجوع بھی کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ 3 ایم پی او کی مدت مکمل ہونے کے باوجود انہیں مزید قید رکھا گیا اور بعد ازاں دوبارہ مقدمات کے تحت گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا۔

پریس کانفرنس میں یہ بھی بتایا گیا کہ اہلخانہ اور وکلا کو اب تک ان افراد سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، اور عدالتی احکامات کے باوجود پولیس تعاون نہیں کر رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رویہ انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر دو مطالبات پیش کیے گئے
1. ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ، بیبو بلوچ، گلزادی بلوچ، بیبگر بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی، ماما غفار اور عمران بلوچ کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
2. بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور سیاسی کارکنان کی گرفتاریوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔

رہنماؤں نے صحافیوں، وکلا، انسانی حقوق کے کارکنان اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں آواز بلند کریں تاکہ بلوچستان کے شہریوں کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔