تحریر(ماسٹر محمداقبال بلوچ)
شہناز شبیر: ایک ہمہ جہت، باوقار اور باشعور شخصیت
شہناز ایک خوبصورت اور بامعنی نام ہے، جس کے لغوی معنی “سر” یا “تال” ہیں، یعنی وہ نغمہ جو روح کی گہرائیوں کو چھو جائے۔ یہ نام ایک ایسی شخصیت کی نمائندگی کرتا ہے جس کی باتوں، خیالات اور جذبات میں نغمگی، ملائمت اور لطافت پائی جاتی ہے۔ شہناز ایک ایسی ہستی ہیں جو ہر لمحہ خوشی کے نغمے بکھیرتی ہیں، اور جن کی موجودگی ایک خوشگوار دھن کی مانند دلوں کو تسکین بخشتی ہے۔ اس نام کا ایک اور خوبصورت مطلب “دلہن” بھی ہے، جو تازگی، خوبصورتی، محبت اور امید کی علامت ہے۔ جس طرح دلہن ہر نظر کو مسحور کر دیتی ہے، ویسے ہی شہناز اپنی معصومیت، نرمی، روشنی اور خلوص سے دلوں کو منور کرتی ہیں۔
زندگی کا آغاز اور تعلیم
شہناز شبیر 28 جولائی 1981 کو بلوچستان کے خوبصورت علاقے اوتھل، ضلع لسبیلہ میں پیدا ہوئیں۔ ان کا بچپن تربت میں گزرا، جہاں انہوں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی اسکول سے حاصل کی اور میٹرک مکمل کیا۔ بعد ازاں انہوں نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج تربت سے ایف ایس سی، بی ایس سی اور پرائیویٹ بی اے کی تعلیم حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے سفر کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے بلوچستان یونیورسٹی سے بلوچی زبان و ادب میں ماسٹرز (ایم اے) کی ڈگری حاصل کی، اور بعد ازاں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم فل بلوچی مکمل کیا۔ ان کی تعلیمی قابلیت ان کے ادبی ذوق اور سماجی شعور کی پختگی کا مظہر ہے۔
سماجی خدمات اور خواتین کی فلاح و بہبود
شہناز شبیر نے 2007 میں سماجی خدمت کے سفر کا آغاز کیا۔ ابتدا میں وہ مختلف فلاحی تنظیموں سے منسلک رہیں، جن میں “اوست ویلفیئر آرگنائزیشن” قابلِ ذکر ہے۔ انہوں نے بطور سماجی کارکن خواتین اور کمزور طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ ان کا بنیادی مقصد خواتین کو بااختیار بنانا، انہیں تعلیم یافتہ بنانا اور سماجی طور پر مستحکم کرنا رہا۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے مختلف سیمینارز، ورکشاپس اور آگاہی مہمات کا انعقاد کیا، جن سے سینکڑوں خواتین نے استفادہ حاصل کیا۔
اپنی قیادت اور وژن کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے انہوں نے “راہشون ویمنز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن” کے نام سے ایک فلاحی ادارہ قائم کیا، جو آج بھی خواتین کی ترقی، حقوق کی فراہمی اور رہنمائی کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے شہناز شبیر نے نہ صرف خواتین کو نئی راہیں دکھائیں بلکہ ان کی آواز کو باوقار مقام عطا کیا۔
ادبی سفر اور تخلیقی صلاحیتیں
شہناز شبیر کو بچپن سے ہی لکھنے کا شوق تھا۔ میٹرک کے دوران انہوں نے ایک گیت لکھ کر اخبار کو بھیجا، جو شائع ہوا، اور یوں ان کے ادبی سفر کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے مختلف اخبارات و رسائل میں کہانیاں، نظمیں، مضامین اور سماجی موضوعات پر تحریریں لکھنا شروع کیں۔ ان کی تحریروں میں زبان کی چاشنی، احساس کی شدت اور معاشرتی شعور نمایاں انداز میں جھلکتا ہے۔ آج کل وہ سوشل میڈیا، خصوصاً فیس بک اور واٹس ایپ اسٹیٹس کے ذریعے اپنی تخلیقات قارئین تک پہنچا رہی ہیں، جہاں انہیں بھرپور پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔
نشریاتی خدمات
شہناز شبیر نے نشریاتی میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا۔ بچپن میں وہ ریڈیو پروگرامز میں بطور چائلڈ آرٹسٹ حصہ لیتی رہیں، اور وقت کے ساتھ ساتھ کمپیئرنگ اور میزبانی میں بھی مہارت حاصل کی۔ بطور ریڈیو جوکی (RJ) انہوں نے “سنو ایف ایم 96” کے پلیٹ فارم پر کئی سال خدمات انجام دیں، جہاں ان کی دلکش آواز، معلوماتی پروگرامز اور منفرد اندازِ میزبانی نے سامعین کے دل جیت لیے۔ اگرچہ وہ گزشتہ دو برس سے سنو ایف ایم سے وابستہ نہیں ہیں، تاہم ان کا نشریاتی دور آج بھی سامعین کے ذہنوں میں سنہری یادوں کی صورت میں محفوظ ہے۔
انسانی حقوق اور موجودہ سرگرمیاں
شہناز شبیر اس وقت ریڈیو پاکستان سے منسلک ہیں۔ انسانی حقوق کے شعبے میں ان کی خدمات کا آغاز “ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP)” سے ہوا، جہاں وہ خواتین ٹیم کی کوآرڈینیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وہ آج بھی انسانی حقوق کی جدوجہد میں سرگرم ہیں اور انسانیت کی خدمت کو اپنا مشن سمجھتی ہیں۔

