ویمن ایس ایچ او تربت مسیرہ بلوچ ضلع کی ضرورت ہے۔ جزباتی فیصلے نہ کیئے جائیں، شاری بلوچ
اسلام آباد (گدروشیا پوائنٹ) تربت کی سماجی کارکن شاری بلوچ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ عورت کی آزادانہ کام کے حوالے سے کیچ ایک سخت اور دشوار ضلع ہے خاص طور پر ایسے ماحول میں جہاں مرد کی سوچ و فیصلے غالب ہوں مردوں کے درمیان کام کرنا کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں ہے۔ مگر یہاں کام کرنے کے مسائل صرف وہ نہیں جو ہمیں باہر سے دکھائی دیتے ہیں، بلکہ اصل درد تو وہ ہے جب اپنے ہی لوگ نفرت کے ساتھ آپ کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔ لوگ نہیں جانتے کہ کس طرح ایک خاتون پولیس افسر غریب و امیر کے درمیان تفریق ختم کر کے سب کو برابر انصاف فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہے—بغیر کسی ذاتی مفاد کے۔ اور بدلے میں کیا ملتا ہے؟ صرف مخالفت، الزامات اور کردار کشی۔
آپ کی یہ نام نہاد “مہذب” سوسائٹی صرف اُس وقت عورت کو عزت دیتی ہے جب وہ آپ کے کہنے پر چلے۔ جیسے ہی وہ خود سے سوچنے اور فیصلے کرنے لگتی ہے، وہ بدنام کر دی جاتی ہے۔ بدزبان، باغی اور کردار کی ماری قرار دی جاتی ہے۔
کیا ہمارے ضلع کے مسائل صرف منشیات، اسمگلنگ یا ڈکیتی ہیں؟ کیا کسی نے یہاں کے سماجی مسائل پر بات کی؟ ہر گھر میں ایک عورت ماں، بہن یا بیٹی کی صورت میں ظلم، خوف، خاموشی اور بے بسی کا شکار ہے۔ نہ باپ بولتا ہے، نہ بھائی، اور نہ ہی یہ معاشرہ۔ اور جب ایک عورت آواز اٹھاتی ہے، تو پورا نظام اس کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔
پولیس اگر کام نہ کرے تو مسئلہ۔ لیکن اگر ایک عورت افسر بن کر ایمانداری سے کام کرے تو وہ بھی مسئلہ ہے
کچھ “وکیل حضرات” اپنے یاروں کے کیس سنے جانے پر پولیس کو سراہتے ہیں، اور اگر ان کے مطلب کی بات نہ ہو تو سوشل میڈیا پر کیچڑ اچھالتے ہیں۔
کب کسی نے ہماری بات سنی؟ خاتون ایس ایچ او گزشتہ ڈھائی سال سے بغیر کسی سہولت کے اس ضلع میں خدمات انجام دے رہی ہے مگر آج تک اُسے کوئی سہولت میسر نہیں آئی۔
پوسٹنگ اور ٹرانسفر نوکری کا حصہ ہیں، مگر میرا سوال اُن “غیرت مند مردوں” سے ہے جو ایک عورت کے خلاف صرف زبان درازی جانتے ہیں۔ کبھی کسی نے اس کی عزت، اس کے تحفظ یا اس کی آواز بننے کی کوشش کی؟ اگر واقعی آپ میں غیرت ہے، اگر واقعی آپ اپنی ماں، بہن، بیٹی کے لیے درد رکھتے ہیں—تو خاموش مت رہیں! آج جو عورت آپ کے حق کے لیے آواز بلند کر رہی ہے، کل وہ آپ کی خاموشی کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے گی۔
وہ لوگ جو اپنی عورتوں کو پردے میں رکھتے ہیں دوسروں کی بیٹیوں اور بہنوں پر زبان کے تیر چلاتے ہیں ان کی غیرت صرف چاردیواری تک محدود ہے۔
یہ کیسا معاشرہ ہے؟ یہ کیسے لوگ ہیں؟ جہاں حق کی بات کرنے والی عورت کو کمزور سمجھا جاتا ہے۔ جہاں ایک خاتون افسر کو اتنا ڈرایا دھمکایا جائے کہ اُس کا جینا دوبھر ہو جائے۔ یہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ وہ عورت غلط نہیں ہے بلکہ پورا معاشرہ بےحس، بے ضمیر اور مردہ ہو چکا ہے۔
غیرت مند بلوچ مرد وہ نہیں جو عورت کی تذلیل کرے۔ اصل بلوچ تو وہ ہے جو عورت کی عزت میں اپنی عزت تلاش کرتا ہے۔ جو ماں، بہن اور بیٹی کا محافظ ہوتا ہے نہ کہ اُن پر زبان درازی کرنے والا۔ اور اگر کسی عورت کی آواز سے تمہیں خطرہ محسوس ہو، تو سمجھ لو وہ آواز کمزور نہیں بلکہ تمہارے جھوٹے غرور کی موت ہے۔ اسلئے آئی جی پولیس بلوچستان اور ڈی آئی جی مکران سے اپیل ہے کہ تربت کی خاتون ایچ ایچ او تربت میں رہنے دیا جائے

