ہاں، میں ایک دن اپنے پیروں پر چل سکوں گا…
بس ساتھ دینے والے، حوصلہ بڑھانے والے اور ہاتھ تھامنے والے دوستوں کی ضرورت ہے۔
مئی 2020 میں ایک حادثے کے نتیجے میں میری ریڑھ کی ہڈی متاثر ہوئی، جس کے باعث میں معذور ہو گیا۔ لیکن میں نے کبھی اللہ کی ذات سے ناامیدی اختیار نہیں کی۔ نہ جانے کیوں، دل میں ایک امید کی کرن ہمیشہ روشن رہی ہے۔ زندگی کے بے رحم طوفانوں کے باوجود، وہ کرن بجھی نہیں… اور میری جدوجہد آج بھی جاری ہے۔
2022 میں نیو دہلی کے IBS اسپتال میں علاج کی امید پیدا ہوئی، جہاں اسپائنل کارڈ کے متاثرہ حصے میں ایک خصوصی ڈیوائس لگانے کا منصوبہ تھا، جس پر اُس وقت 35 ہزار ڈالر لاگت آ رہی تھی۔ بہت کوششوں کے باوجود مالی معاونت نہ ملنے پر خاموش ہو گیا۔ بعد ازاں پاکستان میں آغا خان جیسے بڑے اسپتالوں سے رابطہ کیا، مگر وہاں بھی یہ علاج ممکن نہ تھا۔
2024 میں انڈیا کے یونیورسل اسپتال سے رابطہ ہوا، جہاں سے ایک 10 روزہ علاج کا پلان بھیجا گیا۔ اس میں تین دن بون میرو اور باقی سات دن دیگر طبی مراحل شامل تھے۔ اندازہ تھا کہ اس علاج پر 50 سے 60 لاکھ روپے خرچ ہوں گے، جو میرے بس سے باہر تھا۔
حال ہی میں لاہور کے ایک بڑے نیورو سرجن کو میری رپورٹس دکھائی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ علاج پاکستان میں آنے میں وقت لے گا، البتہ اگر مالی مدد ہو تو امریکہ کے Mayo Clinic، سوئٹزرلینڈ یا بھارت میں علاج ممکن ہے۔ اس امید کے بعد میں نے مزید تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ چین کی Fudan University نے بھی اس علاج میں کامیابی حاصل کی ہے۔ وہاں میرے دو دوست، عنایت مینگل اور شیر احمد شاہوانی، پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ ان دونوں نے یونیورسٹی سے رابطہ کیا تو بتایا گیا کہ اگرچہ ریسرچ کامیاب ہو چکی ہے، مگر اسے حکومتی منظوری اور عملی طور پر نافذ ہونے میں تقریباً دو سال لگ سکتے ہیں۔
یونیورسٹی نے سوئٹزرلینڈ کے ایک اسپتال کا لنک بھی فراہم کیا، جہاں یہ علاج جاری ہے۔ لیکن میرے وسائل نہایت محدود ہیں۔ اگر میں اپنی دکان فروخت بھی کروں، تو شاید صرف سفری اخراجات ہی پورے ہو سکیں۔
لہٰذا میں اپنے دوستوں، ہمدردوں اور مخیر حضرات سے اپیل کرتا ہوں کہ میرے علاج کے لیے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے مہم چلائیں۔ کسی این جی او یا فلاحی ادارے کے ذریعے میری مدد کریں تاکہ میں علاج کے لیے جا سکوں۔
میں ٹھیک ہو سکتا ہوں، میں دوبارہ اپنے پیروں پر چل سکتا ہوں…
بس آپ کا ساتھ، آپ کا ہاتھ اور آپ کی مدد درکار ہے۔

