بی این پی مینگل کے رہنما ثنا اللہ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں سیاسی اور جمہوری جماعتوں کے خلاف بیانیہ بنایا جارہا ہے، بلوچستان کے قدرتی وسائل پر کسی حکومت نے سنجیدگی سے مسئلہ حل نہیں کیا ہے ایک ٹی وی انٹرویو میں ثنا اللہ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کی سیاسی اور جمہوری جماعتوں کو کمزور کرنے کا بیانیہ بنایا جا رہا ہے تاکہ مخصوص مفادات کو طویل مدت تک تحفظ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی شناخت وسائل پر حق اور لاپتہ افراد جیسے مسائل پر کوئی حکومت سنجیدہ نہیں رہی۔ ثنا اللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ اور آئینی شقوں کو بائی پاس کر کے بلوچستان کو معاشی طور پر محروم رکھا گیابی این پی مینگل کے رہنما ثنا اللہ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں سیاسی اور جمہوری جماعتوں کے خلاف بیانیہ بنایا جارہا ہے تاکہ بلوچستان کی پارٹیز کا جو تھوڑا بہت معاملہ ہے وہ بھی ختم ہوجائے اور لوگ مفادات حاصل کر رہے ہیں ان کی اجارہ داری بیس پچیس سال تک کے لیے محفوظ ہوجائے۔ثنا اللہ بلوچ نے مزید کہا کہ قیام پاکستان سے قبل سے بلوچستان کی عوام کو شناخت کا مسئلہ درپیش ہے اس کے لیے مزاحمت کرتے آئے ہیں اس کے علاوہ بلوچستان کے قدرتی وسائل پر کسی حکومت نے سنجیدگی سے مسئلہ حل نہیں کیا ہے اور جو اس کی محرومیاں ہیں ہم نے تفصیل سے ان سب پر بات کی ہے ۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ بھی موجود ہے۔ ہم نسلی، لسانی یا کسی بھی بنیاد پر ہر طرح کے تشدد کے خلاف ہیں اور بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ سردار اختر مینگل کے وقت میں کوئی ایک بھی لاپتہ افراد کا مسئلہ نہیں تھا بس ان کے بھائی کا مسئلہ تھا جس کے بارے میں پتہ چلا کہ انہیں اٹھا کر شہید کر دیا گیا تھا۔کسی بھی حکومت نے بلوچستان کے مسائل کو معاشی اور سماجی انداز میں حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ دنیا میں جب تنازعات بڑھتے ہیں تو کچھ ایسے گروہ ہوتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ہم اب ان معاملات کو آئین جمہوریت کے تحت حل نہیں کرسکتے لیکن اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان سمیت سیاسی جماعتوں کودانشوروں کو شاعروں کو طالب علموں کو سب کو ایک ہی کھاتے میں ڈال دیں۔ثنا اللہ بلوچ نے مزید کہا کہ جب آپ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ بناتے ہیں اور پھر اٹھارہویں ترمیم کو 172-3 کو آئین کو بائی پاس کرتے ہیں

