گوادر پریس کلب کی صحافی لطیف بلوچ کے بہیمانہ قتل کی مذمت

گوادر (پریس ریلیز)گوادر پریس کلب، گوادر نے آواران میں روزنامہ انتخاب کے نمائندے، ممتاز صحافی لطیف بلوچ کے سفاکانہ قتل پر شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اس بزدلانہ اقدام کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ پریس کلب نے اس افسوسناک واقع کو آزادی صحافت پر حملہ اور اظہارِ رائے کو خاموش کروانے کی منظم کوشش قرار دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ لطیف بلوچ کو ان کے گھر میں گھس کر شہید کرنا حکومتِ بلوچستان کی نااہلی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ اس حملے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ بلوچستان میں سچ بولنا جان گنوانے کے مترادف بنتا جا رہا ہے۔

صدر گوادر پریس کلب نے کہا کہ بلوچستان ایک طویل عرصے سے صحافیوں کے لیے خطرناک ترین خطہ بن چکا ہے، جہاں نہ صرف ان کی جان کو خطرہ ہے بلکہ آزادی اظہارِ رائے کو مسلسل دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ لطیف بلوچ جیسے بہادر اور بااصول صحافیوں کو خاموش کر کے حق و سچ کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ گوادر پریس کلب مطالبہ کرتا ہے کہ:

1۔ شہید لطیف بلوچ کے قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے انہیں عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے۔
2۔ بلوچستان بھر میں صحافیوں کو تحفظ دینے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔
3۔ صحافت دشمن عناصر کے خلاف بلاتاخیر اور سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔

گوادر پریس کلب نے لطیف بلوچ کے اہلِ خانہ، آواران کے ساتھی صحافیوں اور ان کے ادارے سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ صحافیوں پر کسی بھی قسم کا ظلم یا جبر ہر سطح پر بے نقاب کیا جائے گا اور آزادیِ صحافت کی جدوجہد جاری رہے گی۔