بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال، حکومتی دعوؤں اور زمینی حقائق کا سنگین تضاد

بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال، حکومتی دعوؤں اور زمینی حقائق کا سنگین تضاد
تحریر: ڈاکٹر گل محمد بلوچ

بلوچستان، بالخصوص گزشتہ چند دنوں سے پنجگور اور کیچ ڈسٹرکٹ میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال نہایت تشویشناک رخ اختیار کرتی جارہی ہے۔ صوبے میں قتل و غارت، ٹارگٹ کلنگ، مشکوک ہلاکتوں اور مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی میں نمایاں اضافہ ہوچکا ہے۔ صورتحال اس قدر پیچیدہ ہے کہ اب یہ وارداتیں کرنے والے گروہ بھی کسی ذمہ داری کو قبول کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ پنجگور میں رحمت صالح کے بھائی کے بہیمانہ قتل اور تربت میں ڈپٹی کمشنر بشیر احمد بڑیچ پر ہونے والے قاتلانہ بم حملے کی ذمہ داری تاحال کسی بھی تنظیم نے قبول نہیں کی۔ یہ خاموشی خود اس جانب اشارہ ہے کہ بلوچستان کی موجودہ سیکورٹی حالت کس قدر دھماکہ خیز اور غیر متوقع ہوچکی ہے۔ اسی دوران پنجگور میں ایک نہایت پراسرار اور دلخراش واقعہ نے پوری وادی کو سوگوار کر دیا، جس میں ایک ماں اور اس کی بیٹی کو مبینہ طور پر اغوا کے بعد جسمانی و جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ بیٹی کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس واقعے نے عوام میں شدید خوف اور عدم تحفظ کی فضا مزید گہری کر دی ہے۔ تربت میں بھی گزشتہ کئی دنوں سے ٹارگٹ کلنگ اور مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کے واقعات مسلسل رپورٹ ہو رہے ہیں۔ ایک لاش کیچ کور ندی سے گزشتہ روز ملی جبکہ آج ایک اور لاش سری کہن کے علاقے سے برآمد ہوئی۔ چند دن قبل میری گرلز اسکول کے چپراسی کو بھی نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا، جس نے شہری حلقوں میں گہری بے چینی پیدا کردی ہے۔ اس کے برعکس بلوچستان کے موجودہ وزیراعلیٰ میڈیا میں اپنی کامیابیوں کے دعوے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے بقول صوبے میں نہ کوئی روڈ بلاک ہے، نہ کوئی شدید مزاحمت، بلکہ ان کے مطابق “اب مسلح تنظیموں میں اتنی سکت بھی نہیں بچی کہ وہ خاطر خواہ کارروائی کرسکیں، سوائے اس کے کہ ٹک ٹاکر بن کر پانچ منٹ کی ویڈیو بنا کر غائب ہوجائیں”۔ وزیر اعلیٰ کے یہ بیانات اس تناظر میں حقیقت سے متصادم محسوس ہوتے ہیں اور یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں رہتا کہ وہ بلوچستان کے موجودہ سنگین حالات کا ادراک کس سطح پر رکھے ہوئے ہیں۔ ناقدین کے مطابق انہیں اپنی کرسی بچانے کے لیے خوشنما بیانات اور دروغ گوئی کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ سیکورٹی ادارے مختلف شہروں میں وسیع پیمانے پر سڑکیں بند کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں۔ کوئٹہ اور تربت میں ایف سی ہیڈکوارٹرز کے سامنے مرکزی شاہراہوں کے ایک حصے کو ٹریفک کے لیے مکمل بند کرکے بھاری بھرکم کنکریٹ کی دیواریں تعمیر کی جارہی ہیں، جس نے ٹریفک کی روانی کو نہایت متاثر کیا ہے اور شہریوں کی روزمرہ زندگی مزید مشکلات کا شکار ہو گئی ہے۔ سیکورٹی فورسز کی جانب سے مین شاہراہوں کو اپنے کانوائے کے گزرنے کے نام پر گھنٹوں بند کرنا بھی عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ ان بندشوں کے باعث مسافروں، مریضوں اور ایمرجنسی گاڑیوں کو شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور کئی بار حساس نوعیت کے مریض تاخیر کے باعث خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔ بلوچستان کی موجودہ صورتحال نہ صرف امن و سلامتی کے بحران کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یہ انتظامی ناکامی، ناقص حکمت عملی اور زمینی حقائق سے انکار کی ایک خطرناک تصویر بھی پیش کرتی ہے۔ اگر ریاستی سطح پر مؤثر، شفاف اور ذمہ دارانہ اقدامات نہ کیے گئے تو حالات مزید بگڑنے کا شدید خدشہ ہے۔