مکران میں معاشرتی بگاڑ کی سنگین صورتحال
تحریر: اِن ڈی بلوچ
بلوچستان کا ساحلی علاقہ مکران، اپنی مخصوص ثقافت ، زبان ، غیرت اور مہمان نوازی کے حوالے سے ہمیشہ سے ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ یہاں کے لوگ دین سے وابستہ، ثقافتی طور پر مضبوط اور خاندانی نظام سے جُڑے ہوئے ہیں۔ لیکن حالیہ دنوں میں مکران کے معاشرے میں ایک خاموش مگر خطرناک تبدیلی رونما ہو رہی ہے ۔وہ تبدیلی شادیوں میں محفل و موسیقی اور نشہ (خصوصاً شراب نوشی) کا بڑھتا ہوا رجحان ہے ۔یہ محض ایک تقریباتی تبدیلی نہیں بلکہ اس کے اثرات معاشرے کے بنیادی ڈھانچے، نوجوانوں کی تربیت، اور مذہبی و اخلاقی اقدار پر نہایت منفی اثر ڈال رہے ہیں۔
ماضی میں شادیوں کی تقریبات سادہ، باحیا اور روایتی انداز میں ہوتی تھیں۔ دن کی روشنی میں تقریب ہوتا ، عورتوں اور مردوں کے اجتماعات الگ الگ ہوتے ، مقامی لوک گیت یا دَھول پر محدود تفریح ہوتی ،دین کی باتیں اور بزرگوں کی دعاؤں کا اثر نمایاں ہوتا۔
مگر اب “پیسہ، دکھاوا اور جدید انداز شادیوں کا معیار بنتا جا رہا ہے۔ موسیقی اور محفل” شادیوں میں لازمی حصہ بن چکے ہیں، جن کا دین، تہذیب اور اصل بلوچ ثقافت سے دور دور تک تعلق نہیں۔ رات بھر چلنے والی محفلیں ، رقص ، شور اور شراب نوشی جیسے حرام افعال نئی”رسمین” بن چکے ہیں، جسے “ترقی” یا “ماڈرن انداز” کا نام دیا جا رہا ہے۔
ان سب میں سب سے خطرناک پہلو شادیوں میں شراب نوشی ہے اور یہ عمل کھلے عام ہو رہا ہے۔ نوجوانوں کے لیے یہ فیشن بنتا جا رہا ہے ۔بعض افراد مہمانوں کی خاتر وتواضع شراب سے کرنے کو عزت افزائی سمجھتے ہیں ۔یہ نہ صرف دینی تعلیمات کی خلاف ورزی ہے بلکہ معاشرتی تباہی کا راستہ بنتا جا رہا ہے۔ کئی اضلاع میں ایسے رپورٹس بھی آئیے ہیں کہ شادیوں پررات دیر گئے شراب پی کر جھگڑے، گولیاں چلانے، مار پیٹ اور بدنامی کے واقعات پیش آئےاور ان سب سے بڑ کر نشے کی حالت میں روڈ ایکسڈنٹ سے کئی قیمیتی جانیں جا چکی ہیں۔ جو صرف افسوسناک نہیں بلکہ قومی المیہ ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد باری ہے:
” اے ایمان والو شراب اور جُوااور بُت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔” (سورۃ المائدہ: 90)
مکران کی اصل ثقافت میں دھول، شاعری، لوک گیت اور بلوچی “چاپ” ضرور ہیں، لیکن ان کی نوعیت سادگی، غیرت، اور روایتی آداب کے انداز میں۔ بدقسمتی سے معاشرے میں ایک نئی سوچ جنم لے چکی ہے کہ “بڑی محفل کا مطلب کامیاب شادی ہے۔”جس کے نتیجے میں غریب گھرانے قرض لے کر ایسی تقریبات منعقد کرنے پر مجبورہو رہے ہیں۔شادی خوشی کی جگہ ایک مالی بوجھ بنتا جا رہا ہے۔ شادی ایک عبادت ہے، دو خاندانوں کے ملاپ کا ذریعہ ہے۔ اسے بازار کی نمائش میں بدل دینا ایک غلط رجحان بنتا جا رہا ہے ۔ سادگی میں ہی عزت اور برکت ہے۔ مکران کی مٹی میں غیرت، سادگی اور دینی وفاداری ہے۔ اگر ہم اپنی روایات کو بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں مغربی تقلید، شور و موسیقی، اور بے مقصد محفلوں سے گریز کرنا ہو گا۔ایسی تقریبات کو فروغ دینا ہو گا جو سادگی، پاکیزگی اور برکت سے لبریز ہوں تاکہ ہمارے معاشرے کا وقارمحفوظ رہے اور ہماری آنے والی نسلیں بھی۔

