غربت: ایک معاشی مسئلہ و نفسیاتی بیماری
تحریر: شاکر منظور
پیسی: نجیب اکتر
بلوچستان میں غربت کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق بلوچستان کی تقریباً 48 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، جو قومی اوسط (تقریباً 24 فیصد) سے کہیں زیادہ ہے۔ صوبے کے دیہی علاقوں میں یہ شرح 50 فیصد سے بھی زیادہ ہے، جہاں بنیادی سہولیات جیسے صاف پانی، صحت، اور تعلیم تک رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔
بلوچستان میں غربت محض معاشی محرومی نہیں بلکہ ایک کثیرالجہتی بحران کی شکل اختیار کرچکی ہے جو لوگوں کی ذہنی صحت، سماجی تعلقات، اور اخلاقی اقدار کو متاثر کر رہا ہے۔ یہ بحران فرد کی زندگی کے ہر پہلو پر اثرانداز ہورہا ہے، جہاں بقا خود ایک ذہنی دباؤ بن چکی ہے, آہیں اب دیکھتے غربت اور اسکے اثراتِ۔
غربت کا نفسیاتی المیہ یہ ہے کہ یہ انسان کی شخصیت کو توڑ دیتی ہے، عزتِ نفس اور خوداعتمادی کو مجروح کرکے اس میں نفسیاتی الجھن پیدا کرتی ہے۔ فرد اپنی صلاحیتوں پر شک کرنے لگتا ہے۔ معاشی تنگ دستی کے باعث جب انسان اپنے وجود پر شک کرنے لگتا ہے تو یہ کیفیت نہ صرف اسے انسانیت سے محروم کر دیتی ہے بلکہ وہ ایک “شے” (thing) میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ جب انسان کا وجود شے میں بدل جاتا ہے، تو وہ سوچنے، سمجھنے اور محسوس کرنے کی صلاحیتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔
غربت ذہنی صحت کے ساتھ ساتھ جذباتی صحت پر بھی گہرے اثرات ڈالتی ہے۔ مثال کے طور پر، مسلسل جذباتی دباؤ کی وجہ سے فرد میں جذباتی عدم تحفظ (insecurity) پیدا ہوتا ہے، جو اس کی دماغی صلاحیتوں کو کمزور کرتا ہے۔ نتیجتاً فیصلہ سازی اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا جب معاشی تنگ دستی طویل عرصے تک جاری رہتی ہے، تو یہ فرد میں اسٹریس، اینگزائٹی، ڈپریشن اور شیزوفرینیا جیسی نفسیاتی بیماریوں کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ یہ بیماریاں بعض اوقات فرد کو سماجی بیگانگی (alienation)، جھگڑالو رویوں، چڑچڑاپن، مذہبیت، روحانیت یا منشیات جیسے فرار کے راستوں کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔
غربت کے اثرات فرد کے خاندانی اور معاشرتی تعلقات کو بھی بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ محدود وسائل گھریلو تنازعات، صنفی تشدد، اور باہمی ناہمواریوں کو جنم دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں فرد معاشرتی طور پر اجنبی محسوس کرتا ہے۔ غربت فرد کی زندگی کی خوشیوں کو چھین لیتی ہے اور ایک ایسے اخلاقی بحران کو جنم دیتی ہے جس میں بقا، اخلاقی و انسانی اقدار پر غالب آجاتی ہے۔
غربت اگرچہ فرد کے لیے ذہنی و جسمانی عذاب ہے، لیکن صاحبِ اقتدار کے لیے یہ ایک نعمت اور ضرورت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک بات واضح ہونی چاہیے کہ غربت ہمیشہ فطری یا محض معاشی صورتحال نہیں ہوتی — بعض اوقات طاقتور قوتیں خود مصنوعی طور پر غربت پیدا کرتی ہیں تاکہ لوگوں کی نفسیات پر قابو پانا آسان ہو جائے، یا انہیں اپنے سیاسی، اقتصادی، اور صنعتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
کسی بھی انسانی معاشرے کو کنٹرول کرنے کے لیے غربت کو بطور آلہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر سیاسی و معاشی سطح پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ غربت طاقتور طبقے کے لیے غنیمت ہے۔ اشرافیہ اور سیاستدان غربت کو ایک ڈسپوزیبل آلے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، سیاستدان غربت کو سیاسی سرمایہ سمجھ کر بطور ووٹ بینک استعمال کرتے ہیں؛ دو چار ہزار روپے، ایک ٹرانسفارمر یا وقتی امداد دے کر عوام کو سیاسی مزدور بنا لیتے ہیں۔ اسی طرح سرمایہ دار طبقہ غربت کو سستی مزدوری کے لیے استعمال کرتا ہے، اور بین الاقوامی قوتیں قوموں کی معاشی محرومیوں کا استحصال کرتے ہوئے انہیں اپنے اسٹراٹیجک (strategic) مفادات کے لیے بطور سرمایہ استعمال کرتی ہیں۔
بلوچستان میں وسائل کے غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ عام عوام تک منافع نہیں پہنچ پاتا، جس کے نتیجے میں مقامی لوگوں میں ذہنی انحصار (dependency) اور بے بسی (powerlessness) میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ حالات ایک ایسا معاشی بحران پیدا کر رہے ہیں جو عوام کی ذہنی صحت کو مفلوج کر رہا ہے۔
غربت کے ذہنی اثرات صرف موجودہ نسل تک محدود نہیں بلکہ نسل در نسل (transgenerational) منتقل ہوتے ہیں۔ یعنی غریب کا بچہ غریب پیدا ہوتا ہے اور اپنی ساری زندگی اشرافیہ کی خدمت میں گزارتا ہے۔ غریب کا بچہ تعلیم، صحت، اور غذائیت کی کمی کے باعث ذہنی طور پر بالغ نہیں ہو پاتا۔ دو وقت کی روٹی اور آقا کی خوشنودی اس کی زندگی کی اولین ترجیحات بن جاتی ہیں۔ یہی حالات اسے بچپن ہی سے احساسِ بے بسی (learned helplessness) کا شکار بنا دیتے ہیں۔ یہی نسل بڑی ہو کر اپنی محرومیوں کو تقدیر سمجھ کر قبول کر لیتی ہے۔ یوں ایک ایسی ذہنیت جنم لیتی ہے جو اطاعت، انحصار، اور خاموشی کو سماجی اقدار کے طور پر مضبوط کرتی ہے۔
بلوچستان میں غربت ایک ہمہ گیر بحران کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے جو نفسیاتی بیماریوں، اخلاقی زوال، سماجی انتشار، اور سیاسی افراتفری کو جنم دے رہی ہے۔ اس کا حل سیاسی و معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ فکری بیداری (consciousness) میں پوشیدہ ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار، اور سماجی انصاف کے فروغ سے اس گھمبیر صورتحال کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ سب سے اہم عوامی شعور کی بیداری ہے — یہ احساس کہ غربت کوئی مقدر کا فیصلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی ڈھانچے کی پیداوار ہے جسے اجتماعی ارادے سے بدلا جا سکتا ہے۔ یہی سیاسی شعور غربت کا خاتمہ کرکے معاشرے میں صحت مند ذہن پیدا کر سکتا ہے۔

