پانی جیسی نعمت کا بحران ملک آباد کی واٹر اسکیم کا المیہ
تحریر:محمداقبال بلوچ
ملک آباد کی واٹر سپلائی اسکیم، جو کبھی اہلیانِ ملک آباد کے لیے رحمت سمجھی جاتی تھی، آج ایک عذاب کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ کمیونٹی کے نام پر قائم کی گئی یہ واٹر سپلائی آئے روز عوام کے لیے نئی مشکلات اور مسائل لے کر سامنے آتی ہے۔
جب اس منصوبے کا افتتاح کیا گیا اور لوگوں کے گھروں تک صاف و شفاف پانی پہنچنے لگا تو پورے علاقے میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ لوگ پُرمسرت تھے کہ اب انہیں پینے کے صاف پانی کی سہولت میسر آ گئی ہے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ واٹر سپلائی اپنی اصل حالت میں ظاہر ہونے لگی۔ ہر تین یا چار ماہ بعد اس کے پائپ لائنیں ٹھوٹ پھوٹ کی شکار ہوجاتی ہیں اور بجلی منقطع کر دی جاتی ہے اور یوں اہلیانِ ملک آباد پانی جیسی عظیم نعمت سے محروم رہ جاتے ہیں۔
اس مسئلے کے حل کے لیے ملک آباد کے نوجوانوں نے ہر دور میں متعلقہ محکموں کے آفسراں، ضلعی انتظامیہ اور بااختیار شخصیات کے دروازے کھٹکھٹائے، مگر کوئی پائیدار حل سامنے نہ آ سکا۔ اب یہ واٹر سپلائی منصوبہ ایک معمہ بن چکا ہے، جس نے عوام میں شدید بے چینی اور اضطراب پیدا کر دیا ہے۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پانی انسانی زندگی کے لیے ناگزیر ہے۔ انسانی جسم کا بیشتر حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے اور جسم کے تمام نظام جیسے ہاضمہ اور دورانِ خون پانی کے بغیر درست طور پر کام نہیں کر سکتے۔ پانی جسم کو ہائیڈریٹ رکھتا ہے، غذاؤں کو ہضم کرتا ہے اور زہریلے مادوں کے اخراج میں مدد دیتا ہے
پانی کی عدم دستیابی انسانی زندگی پر گہرے منفی اثرات ڈالتی ہے۔ جب صاف پانی میسر نہیں ہوتا تو لوگ ہیضہ، ٹائیفائیڈ اور دیگر پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ صفائی ستھرائی متاثر ہونے سے جراثیم پھیلتے ہیں اور صحت کے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔ یہ صورتِ حال معاشی مشکلات میں بھی اضافہ کرتی ہے اور معیارِ زندگی کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔
لہٰذا ہم نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور رکنِ صوبائی اسمبلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے اپیل کرتے ہیں کہ ملک آباد کی واٹر سپلائی کے اس سنگین مسئلے پر فوری توجہ دیں اور اہلیانِ ملک آباد کو اس اذیت ناک صورتحال سے نجات دلائی جائے

