کھٹمنڈو/اسلام آباد (گدروشیا پوائنٹ مانیٹرنگ ڈیسک)
نیپال میں حکومت مخالف شدید احتجاج نے تشویشناک رخ اختیار کرلیا۔ مشتعل مظاہرین نے پارلیمنٹ، سپریم کورٹ سمیت متعدد سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیراعظم کے پی شرما اولی کے استعفے کے بعد شروع ہونے والی احتجاجی تحریک نے شدت پکڑ لی۔ کٹھمنڈو میں ہزاروں مظاہرین نے پارلیمنٹ کی عمارت پر دھاوا بولا اور آگ لگادی جبکہ سپریم کورٹ، اسپیشل کورٹ اور کٹھمنڈو ڈسٹرکٹ کورٹ بھی شعلوں کی لپیٹ میں آگئے۔ مظاہرین نے اعلیٰ سرکاری رہنماؤں اور سابق وزرائے اعظم کی رہائش گاہوں کو بھی نشانہ بنایا جبکہ کئی دیگر سرکاری عمارتیں اور دفاتر بھی جلا دیے گئے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ہنگامے اور توڑ پھوڑ کا سلسلہ جاری ہے۔ادھر سکیورٹی فورسز کی جانب سے آنسو گیس اور طاقت کے استعمال کے باوجود مظاہرین منتشر نہ ہوسکے۔ ماہرین کے مطابق یہ بغاوت نیپال میں سیاسی عدم استحکام، انٹرنیٹ کی بندش اور سوشل میڈیا پر پابندیوں کے خلاف عوامی غصے کا اظہار ہے۔ جبکہ آزاد ذرائع کے مطابق عوام کو جان بوجھ کر اشتعال دلایا جارہاہے تاکہ جمہوری حکومت ختم کرکے ایک بار پھر ملک میں آمریت کی حکمرانی مسلط کیا جاسکے

