نوشکی(گدروشیاء پوائنٹ)بلوچستان نیوٹریشن ڈائریکٹوریٹ کے زیر اہتمام ڈی ایچ او آفس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر عبدالرحمن شیرانی،ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر مشتاق مینگل ،نیوٹریشن پروگرام کے کو آرڈینیٹر احتشام مینگل اور نیشنل پروگرام کے رازق زہری اور پی پی ایچ آئی کے ڈی ایس ایم ریاض مینگل نے ماں کے دودھ کی اہمیت و افادیت سے متعلق آگائی کے عالمی مہینہ کے موقع پر پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ ماں کا دودھ صرف بچے کی بقا،نشوونما اور ترقی کا زریعہ نہیں بلکہ ماں کی صحت کا بھی ایک اہم ستون ہے ماں کا دودھ بچوں کو انفیکشن سے بچاتا ہے،ذہنی نشوونما کو بہتر بناتا ہے ،ماں اور بچے کے درمیان جذباتی رشتہ مضبوط کرتا ہے اس موقع پر سیاسی و قبائلی عمائدین، میڈیا نمائندوں اور خواتین بھی موجود تھے ۔مقررین نے میڈیا کو بتایا کہ بلوچستان میں 61 فیصد مائیں بچے کی پیدائش کے پہلے گھنٹے کے اندر دودھ پلانا شروع کرتی ہیں جو حوصلہ افزا ہے مگر صرف 43 فیصد مائیں بچوں کو پہلے چھ ماہ تک ماں کا دودھ پلاتی ہیں ۔ثقافتی روایات،آگائی کی کمی ،کام کے جگہوں پر سہولیات کی عدم موجودگی اور صحت کے مراکز میں محدود تعاون اس عمل کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں اعداد و شمار واضح کرتے ہین کہ صوبے میں بریسٹ فیڈنگ کے فروغ کے لیے مربوط اور منظم کوششیں ضروری ہیں ،
ان کا کہنا تھا نیوٹریشن ڈائریکٹوریٹ، محکمہ صحت ،یونیسیف، لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ ٹیموں کے تعاون سے اگست کے مہینے میں ضلعی سطح پر افتتاحی سیمینار، اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اجلاسوں کا انعقاد ہوگا۔صوبے کے تمام اضلاع میں ماوں،نگہداشت کرنے والوں، مذہبی رہنماؤں اور کمیونٹی عمائدین کے ساتھ آگائی سیشنز کا انعقاد ہوگا تاکہ ماں کے دودھ کے حوالے سے غلط فہمیوں کو دور کیا جاسکے اسکول اور کالج کے طلبہ و اساتذہ کے ساتھ آگائی سیشنز کے ساتھ ساتھ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے پیغامات کی ترسیل کیا جائے گا ۔اس کے علاوہ معلوماتی مواد کی تقسیم اور قومی و عالمی رہنماء اصولوں کے مطابق پیغامات کا فروغ شامل ہیں ۔

