نئی دہلی (نیوز ڈیسک/گدروشیا پوائنٹ)بھارت میں اپوزیشن اتحاد انڈیا بلاک کے رہنماؤں کی جانب سے متنازع انتخابی فہرست میں ترامیم کے خلاف آج پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن تک احتجاجی مارچ کیا گیا، جس کے دوران کانگریس رہنما راہول گاندھی، پرینکا گاندھی وادرا اور کئی دیگر سینئر رہنماؤں کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا۔
یہ احتجاج اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے خلاف کیا گیا، جسے اپوزیشن جماعتیں “ووٹ چوری” کی سازش قرار دے رہی ہیں۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ اس عمل سے لاکھوں ووٹرز، خاص طور پر اقلیتوں اور غریب طبقے کو ووٹ کے حق سے محروم کیا جا سکتا ہے۔
پولیس نے پارلیمنٹ کے قریب مکر دوار پر ہی مارچ کو روک دیا اور رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ اس دوران کچھ رہنماؤں نے بیریکیڈز عبور کرنے کی کوشش کی، جبکہ دو رکنِ پارلیمنٹ بے ہوش ہو گئے، جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔
راہول گاندھی نے گرفتاری کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا:
“یہ لڑائی سیاسی نہیں، یہ آئین کو بچانے کی جنگ ہے۔ یہ لڑائی ایک ووٹ، ایک فرد کے اصول کے لیے ہے۔
پولیس کے مطابق مارچ کے لیے اجازت نہیں لی گئی تھی، اس لیے شرکاء کو حراست میں لے کر قریبی تھانے منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں کچھ رہنماؤں کو رہا کر دیا گیا۔

