یومِ مزدور: پسینے کی خوشبو اور بے آواز قربانیاں
تحریر: گووندا راہیجہ
آج یکم مئی ہے، دنیا بھر میں اسے “یومِ مزدور” کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ یہ دن اُن لاکھوں کروڑوں ہاتھوں کو سلام پیش کرنے کا دن ہے جو دھوپ، گرد، مشقت اور تھکن میں بھی امید کا چراغ روشن رکھے ہوئے ہیں۔ اُن ہاتھوں کو، جو روزانہ صبح فاقہ زدہ آنکھوں سے جاگتے ہیں، مزدوری کے پلّے باندھ کر شہر کی گرد میں گم ہو جاتے ہیں، اور شام کو دو وقت کی روٹی کا بندوبست لے کر واپس آتے ہیں۔
محنت کش وہی اصل معمار ہوتا ہے جس کے بغیر ترقی، صنعت، زراعت اور تہذیب سب کھوکھلے دعوے بن کر رہ جاتے ہیں۔ لیکن صد افسوس! ہمارے معاشرے میں یہی طبقہ سب سے زیادہ محرومی کا شکار ہے۔ فیکٹری کے اندر ہو یا کھیت کی منڈیر پر، تعمیراتی سائٹ ہو یا بازار کی چھت، مزدور ہر جگہ موجود ہے، مگر اس کی زندگی میں تحفظ نہیں، سہولت نہیں، بلکہ صرف قربانی ہے — وہ بھی بے آواز۔
پاکستان میں مزدوروں کے حقوق کا تحفظ آئینی طور پر تسلیم کیا گیا ہے، مگر عملی طور پر یہ صرف کاغذی وعدے بن چکے ہیں۔ ایک مزدور کو اُس کی محنت کا پورا معاوضہ نہیں ملتا، اُسے طبی سہولتیں دستیاب نہیں، بچوں کی تعلیم ایک خواب بن چکی ہے، اور بڑھاپے کا سہارا محض قسمت پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔
یومِ مزدور ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ترقی کا دعویٰ کرنے والے ملک میں اگر مزدور روٹی، عزت اور تحفظ سے محروم ہے تو ہم کس سمت جا رہے ہیں؟
آیئے، آج کے دن ہم صرف چھٹی نہ منائیں بلکہ اس سوچ کو اپنائیں کہ ہر مزدور کا ہاتھ مضبوط، زندگی محفوظ اور مستقبل روشن ہو — یہی ایک زندہ قوم کی پہچان ہے

