مستونگ(گدروشیاپوائنٹ)بلوچستان کے شہر مستونگ کے سرحدی علاقے لکپاس میں،م کراچی تا کوئٹہ شاہراہ کے کنارے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بی بو بلوچ اور گل زادی بلوچ کی رہائی کیلئے بلوچستان نیشنل پارٹی کا دھرنا پیر کے روز 18ویں دن بھی جاری رہا۔ بی این پی کے مرکزی صدر سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں بی این پی کے مرکزی قائدین ، جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری، صوبائی امیر مولانا عبدالواسع، بی این پی عوامی کے صدر میر اسرار اللہ زہری، نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر سردار کمال خان بنگلزئی، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، پی ٹی آئی بلوچستان کے صوبائی صدر جمال شاہ کاکڑ، پشتون تحفظ موومنٹ کے صوبائی صدر نور باچا خان، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے مرکزی سیکریٹری جنرل مزمل شاہ سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی اور خطاب کیا۔
آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی این پی کے مرکزی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ میں اس اے پی سی میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہمارے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد 22 مارچ کو ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو گرفتار کیا گیا۔ ہم نے وڈھ سے لانگ مارچ کا آغاز کیا، راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، جب ہم مستونگ پہنچے تو تمام راستے بند کر دیے گئے۔ ہمارا استقبال گولیوں اور آنسو گیس سے کیا گیا۔ ہم یہاں 17 دنوں سے بیٹھے ہیں۔ تمام جماعتوں نے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
حکومت نے خودکش حملے کی کوشش سے ہمیں روکنے کی کوشش کی، لیکن ناکام رہی۔ تھری ایم پی او جاری کیا گیا، جو ایک ماہ کی مدت کے لیے ہوتا ہے۔ 24 مارچ کو ماہ رنگ کی بہن نے ایک پیٹیشن دائر کی، جس میں وکلاء سے حلف نامہ لیا گیا کہ وہ ریاست کے خلاف کوئی اقدام نہیں کریں گے۔ ہر شہری ریاست سے وفاداری کا عہد کرتا ہے، لیکن کیا یہاں ہر کسی سے یہی پوچھا جاتا ہے؟
کیا بلوچستان کے عوام کو کبھی اس ملک کا شہری تسلیم کیا گیا؟ پشتو، براہوی، اور بلوچی بولنے والوں کو ہمیشہ سے غدار سمجھا گیا۔ اگر کوئی ملک کو لوٹے یا چوری کرے تو کوئی مسئلہ نہیں، مگر حق کی بات کرنا جرم سمجھا جاتا ہے۔ فیصلے محفوظ ہیں مگر ان کے ہاتھوں میں جو آئین پر قابض ہیں۔
ہم کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنا چاہتے تھے، لیکن یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں اپنے دکھ درد بیان کرنے کی اجازت نہیں؟ کیا ماہ رنگ کے کسی سوئس اکاؤنٹ کا انکشاف ہوا ہے؟ آئین شکنی کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی؟ میں دھرنے میں عوام کی تعداد میں اضافے کی اپیل کرتا ہوں۔ تمام جماعتوں کے معزز افراد آئیں اور آٹھ دن ہمارے ساتھ بیٹھیں۔
سردار اختر مینگل نے کہا کہ جب بات عزت، غیرت اور ناموس پر آ جائے تو پھر چین نہیں آتا۔ اگر ہم آج یہاں سے اٹھ بھی جائیں، تب بھی یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔ بلوچستان کے لوگ اپنی غیرت اور ثقافت کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔ ہم صرف سینیٹ یا اسمبلیوں کے ارکان بننے کے لیے نہیں بیٹھے۔
جب تک ہم ان کرسیوں پر بیٹھے ہیں، ہمیں پہچانا جاتا ہے۔ میں نے اسی لیے قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دیا۔ بلوچستان کی بیٹیوں کی آواز سننا بھی گوارا نہیں کیا جاتا۔ تمام جماعتوں کی درخواستوں پر غور کے لیے کل پارٹی کا اجلاس بلایا ہے۔ میں کسی دباؤ کے بغیر اس دھرتی کا قرض چکانے کے عزم پر قائم ہوں۔”

