دامنِ کوہِ چلتن اور بہتے آنسو

دامنِ کوہِ چلتن اور بہتے آنسو

تحریر: شئے ریاض احمد

چلتن کا معنی “چالیس تن” یعنی “چالیس جسم” یہ پہاڑ جو کوئٹہ کے قریب واقع کوئٹہ کی تیسری سب سے بلند ترین پہاڑ ہے ،چلتن کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ ایک پراسرار پہاڑی سلسلہ ہے اس کے بارے میں ایک واقعہ مشہور ہے کہ کسی زمانے میں ایک چرواہے جوڑے کے ہاں اولاد کی پیدائش نہیں ہوئی تو وہ کسی بزرگ کے پاس دعا کرانے کیلئے چلے گئے اس بزرگ کی دعاؤں کی بدولت انکے ہاں 40 بچوں کی ولادت ہوئی چونکہ اس زمانے میں غربت اور تنگ دستی کا عالم تھا، والدین انکی کفالت نہیں کرسکتے تھے چنانچہ انہوں نے ایک بچہ گود لیا اور باقیوں کو کوہِ چلتن کے حوالے کیا، ایک دن جب ماں کو بچوں کی یادیں ستانے لگی اور وہ کوہ چلتن کی چوٹی پر اپنی دامن پھیلاتی اور اپنے بچوں کو جوان ہوتا دیکھ کر بے ساختہ خوشی کے عالم میں اپنی شوہر کو آواز دی۔ جب دونوں میاں بیوی پہاڑ پر پہنچے تو دیکھا کہ سارے بچے غائب گئے ہیں۔ کوہ چلتن کے بارے میں ایک اور بات بھی مشہور ہے کہ اس پہاڑ پر اگر کہیں کوئی کھو جائے تو راستہ ہرگز مت پوچھئے گا۔کیونکہ آج بھی ان بچوں کی روحیں کوہ چلتن کے دامن میں موجود ہیں۔

اس کہانی میں صداقت ہو یا نہ ہو بہرحال اسی کوہِ چلتن کے دامن پچھلے ساتھ دنوں سے جن میں (رمضان المبارک کے کچھ ایام اور عید کے دن شامل ہیں) بوڈھی مائیں اپنے گمشدہ بچوں کو پکار رہی ہیں۔ بلوچستان کے کمسن بچے جن کے پاؤں میں چمپل تک نہیں اپنے والدین کو ڈھونڈ رہے ہیں، بلوچستان کی وہ بہنیں جنکے سر پر کھبی سورج نہیں پڑتی تھی آج وہ چلتن کے دامن میں بیٹھ کر اپنے لاپتہ بھائیوں کی راہیں تک رہی ہیں۔

بلوچستان جہاں اب تک کہا جاتا ہے تقریباََچالیس انتہائی قیمتی زیرزمین معدنیات کے ذخائر دریافت ہوچکے ہیں جو محتاط تخمینوں کے مطابق آئندہ پچاس سے سو سال تک ملکی ضروریات پورا کرنے کے لئے کافی ہیں، ان میں تیل، گیس، سونا، تانبا، یورینیئم، کولٹن، خام لوہا، کوئلہ، انٹی مونی، کرومائٹ، فلورائٹ‘ یاقوت،گندھک، گریفائٹ، چونے کا پتھر، کھریامٹی، میگنائٹ، سوپ سٹون، فاسفیٹ، درمیکیولائٹ، جپسم، المونیم، پلاٹینم، سلیکاریت، سلفر، لیتھیئم اور اربوں ڈالر کی کئی دوسری قیمتی وسائل سمیت خوبصورت اور وسیع بہرِ بلوچ زر (سمندر) شامل ہیں۔

بجائے اسکے کہ آج بلوچستان دنیا کے خطے کا خوشحال ترین، خوبصورت اور پر امن و ترقی یافتہ خطہ ہوتا بدقسمتی سے بلوچستان کے باسیوں کے پاؤں میں چمپل تک نہیں، بدن پر ڈھنگ کے کپڑے نہیں، چہرے پر خوشی کے اثار نہیں، پڑھنے کیلئے درس گاہیں نہیں، پینے کیلئے صاف پانی نہیں، علاج و معالجے کیلئے طبی سہولیات نہیں یوں سمجھا جائے کہ انسانی بنیادی ضروریات زندگی کے تمام آسائشوں سے بلوچ و بلوچستان کے باسی محروم ہیں ۔

افسوس کہ اتنی قدرتی وسائل بالخصوص ریکوڈک ذخائر، قدرتی گیس و دیگر قیمتی معدنیات سے مالا مال بلوچستان گزشتہ 76 سالوں سے مسلسل عدم توجہی کا شکار ہے اور اس کی ایک کروڑ کے لگ بھگ آبادی تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں سے کوسوں دور ہے۔

اس خوبصورت خطے اور ساحل و وسائل کا مالک بلوچ گزشتہ کئی دہائیوں سے ظلم و جبر کا شکار ہے لیکن پچھلے سات دنوں سے کوہ چلتن کے دامن میں دھرنا دیئے بیٹھے ہیں کسی مال او دولت کیلئے نہیں، اپنے قدرتی وسائل (جو انکے قومی و وطنی حق ہے) ساحل و وسائل کیلئے نہیں، بلکہ معاشرے میں زندہ رہنے کیلئے جو اپنی مادر وطن گلزمین پر زندہ رہنے کا حق مانگ رہے ہیں، اپنے بچوں کے جینے کا حق مانگ رہے ہیں ،اپنی ننگ و ناموس اور چادر اور چاردیواری کی تقدس کی بحالی کیلئے آس لگائے سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں سراپا احتجاج ہیں۔

کوہ چلتن کے دامن میں آج بھی وہ مائیں سسکیوں اور آہوں سے اپنے پیاروں کو پکار رہی ہیں انکی آنے کی خوشبو کو محسوس کر رہی ہیں ان کی دیدار کے منتظر ہیں، انکی زندہ و سلامتی واپسی کے طلبگار ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو امیدوں کے دامن میں بیٹھ کر کسی کی آنکھوں کی روشنائی چلی گئی ہے، کوئی معذور بن چکی ہے اور جبری گمشدہ افراد کے کئی لواحقین اس دنیا فانی کو خیر باد کر چکے ہیں لیکن انکو اولاد کی دیدار نصیب نہیں ہوئی اس لئے ذاکر مجید کی ماں نے کہی تھی “میں اب کمزور ہو چکی ہوں لیکن اس لئے سڑکوں پر بھٹک رہی ہوں اگر میرا ذاکر جان واپس آئے تو ماں کی ممتا کو دیکھے، ذاکر جان کو لاپتہ کرنے کے بعد یہ بوڈھی ماں کبھی چھین سے نہیں بیٹھی ہے بلکہ اپنی لخت جگر کی بازیابی کیلئے سڑکوں اور چوراہوں پر دربدر کی ٹھوکریں کھاتی رہی اور اپنے زاکر جان کی بازیابی کیلئے کوشاں رہی۔

دھرنا گاہ میں دوپہر کا وقت تھا مقررین خطاب کر رہے تھے کاروان کا سرخیل سردار اختر جان مینگل تشریف فرما تھے، دھرنا گاہ میں ہزاروں لوگ مرد اور خواتین بڑی تعداد میں شریک تھے، اتنے میں لاپتہ عبدالرحمن کا کمسن بچہ والد کی تصویر ہاتھ میں پکڑے کھڑا ہوا مائیک تھاما بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے شروعات کی مشکل وقت تھا کھٹن حالات تھے بچہ کم عمری میں والد کے سائے اور شفقت سے محروم کیا چکا تھا، دل میں درد و الم تھے ،زبان پر والد کا نام لیتے ہوئے دل رنجیدہ ہوا ،ہونٹ خشک ہوئے ،آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے، حوصلہ پست ہوا کیونکہ وہ اس عظیم سائے اور نعمت خداوندی سے محروم ہوگیا تھا ۔ایسا لگا کہ اس بچے کے سر پہ آسمان ٹوٹ پڑا، پاؤں تلے زمین کھسک گئی ہو، کوہ چلتن کا دامن قیامت کا منظر پیش کر رہا تھا جیسے کوہ چلتن کے چوٹیوں پر چرواہے کے وہ چالیس بچے ابھی غائب ہوچکے ہوں۔ وہ زندگی جہاں بہاریں ہی بہاریں تھی ، وہاں اک ایسی خزاں چھا گیا جیسے خوشیاں ہمیشہ کیلئے روٹھ گئی ہیں، مسرتوں کی کھلکھلاتی شادمانیوں میں مست معصوم سی زندگیوں پر چلتن جیسا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے کیونکہ والد کی کمی بچوں کیلئے ایک بہت بڑا المیہ مشکلوں، دُکھوں، مصیبتوں اور قدم قدم پر کانٹے اِس قدر گھیر لیتے ہیں کہ اِن سے مقابلہ کرنا درکنار، بچ کر باہر نکل آنے کے تمام راستے بند ہوتے ہیں۔ یہ کٹھن حالات ،کرب اور مشکلات، نادسترسی بے وسی، بے سہارگی ،مایوسی اور بے بسی جیسے اس بچے کی مقدربن چکے تھے ۔

بچپن کے ہنسی، خوشی، جوانی کی خواہشات دم توڈ چکے تھے، بات کرتے وقت آنسو بہانے میں بیت گیا، ہنستی مسکراتی زندگیوں پر ویرانی سی چھا گئی تھی، اندھیرا ہی اندھیرا برپا ہوگیا،خوشیوں، مسرتوں اور محبتوں کے چمکتے دمکتے آباد گھر میں اک ختم نہ ہونے والا سناٹا، اک مستقل تاریکی نے اک روشن گھر کو گویا اندھیرے میں دھکیل دیا ہے۔

اہل بلوچستان کے بچوں کی زندگیوں میں یہ رنجشیں قدرتی آفات نہیں بلکہ ریاستی ظلم و بربریت، استحصالی نظام ہے جو بلوچستان کی قدرتی ساحل وسائل کو لوٹنا چائتے ہیں انکو بلوچ سے نہیں بلوچستان کے ساحل و وسائل سے واسطہ ہے ،اسی وجہ سے ظالم اور جابر استحصالی قوتوں اور نام نہاد حکمرانوں نے معصوم سی زندگیوں کو دنیا کی نفرتوں ، عداوتوں، رنجشوں، طعنوں اور ٹھوکروں کی زد میں دھکیل دیا ہے ۔بلوچستان کے بچوں کو وہ سب کچھ خود کرنا پڑتا ہے جو ایک والد اپنے بچوں کی روشن مستقبل کیلئے لاکھوں ستم و غم اٹھا کر اپنے بچوں کی تعلیم و تربت اور انکے روشن مستقبل کیلئے کرتا ہے۔

آج پھر گویا کوہ چلتن کا دامن اداس ہے ہر آنکھ آشکبار ، درد و الم کے عالم میں غمخوار بلوچستان، سرخیل بلوچ لانگ مارچ قائد بلوچ سردار اختر جان مینگل ماؤں ،بہنوں، بچوں، بچیوں اور بزرگوں کی حوصلہ افزائی کیلئے جرآت و بہادری سے کھڑے ہیں۔ اس اندھیر نگری میں طلوع آفتاب کی مانند ہیں مایوسی کے اس عالم میں امید کی کرن ہیں، تاریخ کے اوراق میں ظالم اور مظلوم کی داستانیں رہیں گے۔ سردار اختر جان مینگل کی حوصلہ، جرآت اور بے باک قیادت کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ بزرگ پھر سر بسجود ہیں اس چرواہے کے بچوں کی لوٹنے کے منتظر ہیں انکی شاید دعا قبول ہوگی، بلوچستان کی گمشدہ اولادوں کی بازیابی کیلئے، ماؤں کے سروں پر شفقت کا ہاتھ رکھنے، بہنوں کی ننگ و ناموس کی حفاظت کیلئے وہ “چالیس تن ” لوٹ آئیں گے ،گھروں میں خوشیاں اور خوشحالی آئے گی ۔آئیں سردار اختر جان مینگل کا ساتھ دیں ،مظلوموں کی اس تحریک کا ساتھ دیں،ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی، بیبو بلوچ، بیبگر بلوچ، سمیت ان تمام سینکڑوں گرفتار شدہ سیاسی جہد کاروں کی آواز بنے اور بلوچ قومی لانگ مارچ کو کامیاب بناکر اپنی قومی و حب الوطنی کا فرض نبھائیں ،

ہمیں قوی امید ہے کہ ظلمت کے بت جلد ٹھوٹ جائیں گے، محرومیوں کے آثار مٹ جائیں گے، غموں کے سیلاب خشک ہوجائیں گے، ماؤں ،بہنوں کے آنسو تھم جائیں گے اور طلوع آفتاب ہوگا کھوئے ہوئے “چالیس تن” لوٹیں گے اور کوہ چلتن کا دامن بہار ہوگا۔

مزاحمت زندگی ہے۔
بلوچ راج زندگ بات۔
بلوچستان ابدمان بات۔