ابولحسن بلوچ: بزرگ شخصیت ہیں جن کا سیاسی کردار ایک کھلی کتاب کی مانند ہے۔ تحریر: ماسٹر محمد اقبال بلوچ

ابولحسن بلوچ: بزرگ شخصیت ہیں جن کا سیاسی کردار ایک کھلی کتاب کی مانند ہے۔

تحریر: ماسٹر محمد اقبال بلوچ

نیشنل پارٹی کے نومنتخب سنٹرل کمیٹی کے رکن واجہ ابوالحسن بلوچ جوکہ تعارف کا محتاج نہیں ان کی علم و دانش اور سیاسی تجربے کےحوالے سے ہر خاص و عام میں جانے جاتے ہیں۔ واجہ ابوالحسن بلوچ نے اپنی سیاست کا آغاز 1967 میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (BSO) کے پلیٹ فارم سے کیا۔ بعد ازاں، 1987 میں بلوچ نیشنل یوتھ موومنٹ (BNYM) سے وابستہ ہوئے، اور اب نیشنل پارٹی کے ساتھ اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ وہ ایک بزرگ شخصیت ہیں جن کا سیاسی کردار ایک کھلی کتاب کی مانند ہے۔ وہ نہ صرف ایک عظیم رہنما ہیں بلکہ نیک، دیانتدار اور دور اندیش بھی ہیں۔ ان کے تجربات اور طرزِ عمل سے لوگ متاثر ہوتے ہیں، اور ان کے الفاظ و عمل میں گہرائی اور سنجیدگی نمایاں نظر آتی ہے۔ سیاسی زندگی میں ان کی کئی دہائیوں کی خدمات نے انہیں معاشرتی و سیاسی تبدیلیوں کا چشم دید گواہ بنا دیا ہے۔ ان کا مشاہدہ، تجربہ اور حکمت عملی عام لوگوں کے لیے رہنمائی کا باعث بنتے ہیں۔ ایسے بزرگ رہنماؤں کا کردار سیاست تک محدود نہیں ہوتا بلکہ وہ سماجی مسائل، اقتصادی پالیسیوں اور ثقافتی فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں اخلاقی اصولوں کی مضبوطی اور قومی مفادات کو اولین ترجیح دینے کی صلاحیت نمایاں ہے۔ ایسے رہنما وقت کے ساتھ عوام کے دلوں میں اپنی ایمانداری، سچائی اور انصاف پسندی کی وجہ سے جگہ بناتے ہیں۔ ان کی سیاسی جدوجہد، قربانیاں اور عوامی خدمت آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ان کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ انہوں نے اپنی قوم اور ملک کی بھلائی کے لیے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ وقف کر دیا۔