تحریر:شاکر منظور
شعورسے مراد آگاہی ہے اور آگاہی کی اصطلاح کسی کی نفسیاتی کیفیت اور سیاسی اور سماجی حالات کی مکمل تفہیم کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ شعور زمان اور مقام کے افہام و تفہیم ہے، اور یہ انسان کا وجود ہے۔ باشعور ہونے کا مطلب ہے اپنے وجود کا احساس ہونا۔
ہم سیاسی شعور کی بات کر رہے ہیں جس کا مطلب کسی کے سیاسی حق، آزادی، انصاف، برابری، عزت نفس، رائے، استحصال، اور شناخت کا مکمل احساس و ادراک ہے۔انسان کے سیاسی شعور انسان کے زندگی کی سمت کا تعین کرے گی۔
سیاسی شعور کا ڈھانچہ اپنے اندر اوریزنٹل ہے کیونکہ سیاسی شعور مجموعی طور پر سماجی اعمال کا نتیجہ ہے جو کسی فرد کی ملکیت پر انحصار نہیں بلکہ تمام تاریخی تضادات کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے اس لیے یہ اپنی فطرت میں وارٹیکل طور پر محدود نہیں ہوسکتا۔
سیاسی شعور دیگر تمام سماجی، معاشی، مذہبی اور اخلاقی شعور سے بالاتر ہے اور یہ باقی شعور کی رہنمائی کرتا ہے۔ سیاسی شعور ایک ارتقائی عمل کے ذریعے پروان چڑھتی ہے، درحقیقت شعور معاشرے اور ریاست کو چلانے کی سائنس ہے۔
سیاسی شعور پختہ ہونے کے بعد کسی شخص کے قول و فعل میں تضاد نہیں رہے گا۔ قول اور فعل میں تضاد ہو تو انسان نفسیاتی مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے جسے نفسیات میں cognitive dissonance کہا جاتا ہے۔ جب کسی فرد کا سیاسی شعور اپنے عروج پر پہنچ جاتا ہے تو یہ لامحالہ ان کے اعمال میں نظر آنے لگتا ہے۔
سیاسی شعور رکھنے والے لوگ، اگر عمل نہ کرے، تو وہ شعور کے الٹ پھیر سے گزریں گے اور ان کی شخصیت و نفسیات پر منفی اثر ڈالیں گے۔ نتیجے کے طور پر، فرد غیر صحت مندانہ اعمال میں ملوث ہوسکتا ہے جو کہ سماج اور قوم کے لئے نقصان دہ ہوسکتا ہے.
شعور انسان کو متحرک کرتا ہے، اس لیے باشعور شخص خاموش نہیں رہتا وہ حرکت کرتا ہے اور اس کو اپنے ہر ذہنی، جذباتی اور جسمانی حرکت کا سبب معلوم ہوتا ہے۔ شعور خوف کو ختم کرتا ہے باشعور شخص اپنے مفادات کو دوسروں پر ترجیح دے سکتا ہے لیکن اسے بزدل نہیں کہا جا سکتا۔
اس کرہ عرض میں عموماً دو قسم کے لوگ بستے ہیں: ایک وہ جو باشعور ہیں، اور دوسرے وہ جو شعور سے عاری ہیں۔ سیاسی شعور رکھنے والے تاریخی عمل میں اپنے اور اپنے معاشرے کی سیاسی پوزیشن کا تعین کر سکتے ہیں۔
جن لوگوں میں سیاسی شعور کی کمی ہوتی ہے وہ لاشعوری طور پر اسٹیٹسکو (موجودہ سیاسی و سماجی نظام) کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہ صرف خاندانوں کی پرورش اور بنیادی ضروریات تک محدود رہتے ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد جسمانی ضروریات کی تسکین ( pleasure principle) کے گرد گھومتا ہے۔
دنیا کے تمام ریاستوں نے عوام کو سیاسی شعور سے دور رکھنے کے لیے مذہب، میڈیا، منشیات، تعلیم، تشدد، بندوق، نفسیات، مراعات، جنس، عدلیہ، پارلیمنٹ، بیوروکریسی، زبان، پروپیگنڈہ، ثقافت، جہالت، غربت، دہشتگردی اور خوف کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔ انسانی تاریخ میں دنیا بھر کی ریاستوں نے شہریوں کو ذہنی طور پر تابع کرنے کے لیے نرم اور سخت طاقت کا استعمال کیا ہے۔
نرم طاقت میں لوگوں کو مفلوج کرنے کے لیے سب سے اعلئ اور کامیاب ہتھکنڈا خوف ہے۔ خوف عام انسانوں کی سب سے بڑی نفسیاتی کمزوری اور ریاست کی سب بڑی طاقت ہے، خوف کو کنٹرول کرکے انسان پر حکمرانی کرنا دنیا کے ریاستوں کا تاریخی شیوا رہا ہے۔
تنقیدی لٹریچر اور سخت سیاسی حالات شعور کا بہترین استاد ہیں تنقیدی شعور افراد کو یہ احساس دلائے گی کہ ان پر کون کنٹرول کر رہا ہے؟ کون ان کا استحصال کر رہا ہے؟ اور وہ اس ذہنی غلامی سے کیسے آزاد ہو سکتے ہیں؟
سیاسی بیداری کی خوبصورتی اس تاریخی حیثیت میں مضمر ہے جہاں انسان اپنے شعوری اور تاریخی موقف کا انتخاب خود کرتا ہے پھر اس عہد کے مطابق اپنی زندگی گزارتا ہے۔
اس کالم کو مطالعہ کرنے کے ساتھ آپکے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوگئی کہ آپ کے سیاسی شعور کی سطح کیا ہے؟ آپ کا سیاسی وژن، سیاسی پوزیشن کیا ہے؟ اگر آپ سیاسی طور پر باشعور ہیں تو آپ کے سماج میں آپ کا سیاسی کردار کیا ہے؟
اگر آپ کو پولیٹیکل سائنس کی سیاسی اصطلاحات یاد ہیں تو شام کے وقت ہوٹلوں اور کیفے میں فارغ اوقات میں سیاسی بحث مباحثوں میں مشغول ہو کر اپنے آپ کو باشعور سمجھتے ہیں یہ عمل نہ صرف غلط فہمی بلکہ تاریخی جبر ہے۔ باشعور انسان کا سیاسی عمل میں حصہ ہوتا ہے۔

