تحریر : مجید رفیق
یہ اُن پچلے سال 2023 کی بات ہے جب میرا پہلا قدم اپنے سلک سنٹر کے سینے میں تهے۔ سامنے دو مساہل مسلسل پریشان کر رہے تهے۔ ایک یہ کہ اسٹوڈنٹس کم ہیں، دوسرا یہ کہ میں ایک گہرے سوچ میں گم تها کہ اب یہاں سے آگے جانا ہے یا رکنا ہے۔ ان مسئلوں کو لے کر صرف چار اسٹوڈنٹس کے موجودگی میں پہلا دن گزارا تو ایک مسلہ یہاں سے حل ہوگیا کہ ارے بهائی رکنا تو نہیں ہے۔اسٹوڈنٹس تو واقعی تین چار ہیں لیکن ہیں کمال کے۔
اب مسلۂ یہ تها کہ، کیا ان پندره اسٹوڈنٹس کو لے کر ایک تعلیمی اداره چل سکتا ہے؟
خیر بسم اللّٰہ کرکے اللّٰہ کے بھروسے آگے جانے کا فیصلہ کیا- یہ میرے چاروں اسٹوڈنٹس گواه ہیں کہ ہم دل میں جوش اور جذبہ لئیے خوب بلند حوصلے سے آگے بڑھے، دماغ کو نرم ، حوصلہ کو گرم اپنے جوان ہونے کا بهرپور فاہدہ اُٹهاکر تعلیم کے مدمقابل ڈٹ گئے۔ ان چاروں اسٹوڈنٹس نے بهی حوصلہ رکھ کر میرا دل سے ساته نبهایا- یون چلتے چلتے ہم تعلیم کے دیوانگی میں یوں اسطرح پاگل ہوگئے کہ پندره طالبوں سے پروگرام منعقد کرنے کے رائے میں اتفاق ہوا۔ پروگرام میں ہم نے فن اور دوسرے شعبے کے بہترین کارکردگی اور کلاهو کے والدین کی سپورٹ کی بدولت ہم ایک اچها تعلیمی کاروان جمع کرنے میں کامیاب ہوئے۔
خوش قسمتی سے یہ پروگرام سلک کا آواز بن گیا کلاهو کے بیشتر والدیں ہم سے متاثر ہو کر اپنے بچے اور بچیوں کو اس نیک کاروان میں شامل کرنے کےلئے لے آئے۔
ہم اپنے ابتدائی پندره اسٹوڈنٹس کے شکر گزار ہیں جن کی بدولت آج کلاهو تعلیمی نام سے گونج رہی ہے۔ اب سلک کا آواز رکنے نہیں بلکہ مزید پھیلنے والا ہے۔
سلک کے ابتدائی پندره اسٹوڈنٹس میں الناز علی، غزالہ رفیق، عائشہ منضور، عبداللہ عابد، عصمہ شاہ، کریم داد حمید، شہناز رفیق، بانڈی مراد جان، حلیمہ دلجان، حضرہ طارق، شاران عامر، فائزہ یار محمد، فیضان حاصل، محمد عابد، فاطمہ ڈاکٹر ظفر شامل تھے۔
واضع رہے آج آسیاباد سے بهی والدین اپنے بچوں کو کلاهو میں پڑهنے بھیج رہے ہیں جن میں شہزاد ولد نادل سر فہرست ہے۔
ہمارے کاروان میں شامل وه ہستی جن کے بغیر ہم نامکمل ہیں، سر پرویز خان، کلیم اللہ، زاہد احمد، ماسٹر رفیق، دانش محمد جان، لاہِک سلیم، مراد جان، شاہدوست سلیم، ڈاکٹر محمد جان، ماسٹر ثناء اللہ، تحسین خالق، یاسر محمد جان، محمد رفیق کورجو، محمد علی، امام صاحب، عبدالستار، پرویز پھلان، چاکر، الطاف حسین، ہیڈ ماسٹر اسلم شاہ اور وسیم سبزل شامل ہیں۔
میں اس کاروان میں موجود تمام ساتهیوں سے پُرزور گزارش کرتا ہوں کہ اسی طرح حوصلہ فراہم کرتے رہیں تاکہ ہم ہر مشکلات کو عبور کرسکیں۔ آپ سب کا شکر گزار ہوں۔

