تربت کی چار مارکیٹیں خوابِ ترقی یا ناقص منصوبہ بندی کی علامت؟

تربت کی چار مارکیٹیں خوابِ ترقی یا ناقص منصوبہ بندی کی علامت؟

تحریر: عبدالباسط فیضی
تربت جو ضلع کیچ کا انتظامی مرکز اور مکران ڈویژن کا تجارتی و معاشی محور سمجھا جاتا ہے اپنی بڑھتی ہوئی آبادی جغرافیائی اہمیت اور علاقائی تجارت میں مرکزی کردار کے باعث ایک منظم، جدید اور مؤثر شہری ڈھانچے کا متقاضی ہے۔ دنیا بھر میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی بھی شہر کی معاشی نبض اس کے تجارتی مراکز میں دھڑکتی ہے۔ اسی سوچ کے تحت تربت شہر میں چار بڑی مارکیٹیں تعمیر کی گئیں جن کا مقصد مقامی تجارت کو فروغ دینا کاروباری سرگرمیوں کو منظم کرنا اور شہریوں کو ایک ہی چھت تلے جدید سہولیات فراہم کرنا تھا۔
بظاہر یہ منصوبہ ترقی کے ایک روشن خواب کی صورت میں سامنے آیا مگر جب آج ان مارکیٹوں کا زمینی حقائق اور عملی نتائج کی روشنی میں جائزہ لیا جاتا ہے تو یہ خواب ایک تلخ حقیقت میں بدلتا ہوا دکھائی دیتا ہے ایسی حقیقت جو جدید شہری منصوبہ بندی کی کمزوریوں اور غفلت کی واضح مثال بن چکی ہے۔
ناقص طرزِ تعمیر اور موسمی حالات سے عدم مطابقت
ان مارکیٹوں کی ناکامی کی بنیادی وجہ ان کا ناقص آرکیٹیکچرل ڈیزائن ہے۔ تربت دنیا کے گرم ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں موسمِ گرما میں درجہ حرارت 50 ڈگری سیلسیس تک پہنچ جاتا ہے۔ ایسے سخت موسمی حالات میں تجارتی مراکز کی تعمیر کے لیے کلائمیٹ ریسپانسیو ڈیزائن ناگزیر ہوتا ہے جس میں قدرتی ہواداری، مناسب روشنی، اور سورج کی شدت سے بچاؤ کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے تھی۔
بدقسمتی سے ان مارکیٹوں کی ساخت نہ مقامی موسمی تقاضوں سے ہم آہنگ ہے اور نہ ہی جدید تجارتی ضروریات سے۔ تنگ راہداریاں ناکافی قدرتی روشنی اور دکانوں کی غیر منظم ترتیب نے ان عمارتوں کو ایک گھٹن زدہ ماحول میں تبدیل کر دیا ہے جہاں خریدار داخل ہونے سے پہلے ہی بے زاری اور ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے۔
تجارتی منصوبہ بندی کا فقدان
دنیا کے بڑے شہروں خصوصاً کراچی جیسے تجارتی مراکز میں یہ اصول اپنایا جاتا ہے کہ ہر منزل یا بلاک میں یکساں نوعیت کے کاروبار رکھے جاتے ہیں تاکہ خریدار کو سہولت کاروبار کو شناخت اور مارکیٹ کو ایک واضح تجارتی تشخص حاصل ہو۔
اس کے برعکس تربت کی ان مارکیٹوں میں ایک ہی منزل پر ہر قسم کا کاروبار بکھرا ہوا نظر آتا ہے جس نے نہ صرف خریدار کو الجھن میں مبتلا کیا بلکہ دکانداروں کے لیے بھی کاروباری تسلسل اور گاہک کی مستقل آمد کو شدید نقصان پہنچایا۔
بنیادی اور جدید سہولیات کی شدید کمی
موجودہ دور میں ایک کامیاب تجارتی مرکز محض چار دیواری یا دکانوں کا مجموعہ نہیں ہوتا بلکہ سہولیات کا ایک مکمل پیکیج ہوتا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تربت کی ان مارکیٹوں میں بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
کثیر المنزلہ عمارتوں میں لفٹ کا نہ ہونا بزرگ شہریوں خواتین اور معذور افراد کے لیے ان مارکیٹوں کو عملاً ناقابلِ استعمال بنا دیتا ہے۔ شدید گرمی کے اس شہر میں ایئر کنڈیشننگ کے بغیر بند مارکیٹ میں خریداری کا تصور بھی مشکل ہی نہیں بلکہ اذیت ناک ہو جاتا ہے۔
اسی طرح مناسب پارکنگ سی سی ٹی وی کیمروں جیسے حفاظتی انتظامات اور دیگر بنیادی سہولیات کے فقدان نے ان تجارتی مراکز کو نہ عوام کے لیے پُرکشش بنایا اور نہ ہی بڑے کاروباری برانڈز کو سرمایہ کاری پر آمادہ کیا۔

افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان تین مارکیٹوں کی ناکامی کے باوجود، تربت شہر کے قلب میں واقع کیچ ٹاور کو بھی تقریباً اسی طرز پر تعمیر کیا گیا۔ اگر ان منصوبوں سے سبق سیکھا جاتا، بہتر وژن، مؤثر منصوبہ بندی اور مقامی حالات کو مدنظر رکھا جاتا تو یہ تجارتی مراکز واقعی تربت کی معاشی ترقی کا سنگِ میل بن سکتے تھے۔
مگر ناقص ڈیزائن سہولیات کی کمی اور غیر سنجیدہ منصوبہ بندی نے انہیں خوابِ ترقی کے بجائے ایک سبق آموز ناکامی میں تبدیل کر دیا ہےایسی ناکامی جو مستقبل کے منصوبوں کے لیے سنجیدہ غور و فکر اور اصلاح کی متقاضی ہے۔