سماجی بیماری: دکھاوے کی روایت اور مذہبی اقدار سے دوری
تحریر: ماہ نور شاہ
ہمارے معاشرے میں آج جو سب سے تیزی سے پھیلنے والی سماجی بیماری دیکھنے میں آ رہی ہے، وہ ہے دکھاوے اور نمود و نمائش کی لت۔ یہ رجحان لوگوں کی زندگی کے ہر پہلو میں اندر تک سرایت کر چکا ہے، حتیٰ کہ ان مواقع پر بھی جہاں سادگی، سنجیدگی اور روحانیت کی فضاء ہونی چاہیے۔
ماضی میں جب کسی کی برسی ہوتی تھی تو گھر والے اور قریبی رشتہ دار مل بیٹھ کر قرآن خوانی، فاتحہ اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کا اہتمام کرتے تھے۔ صدقہ و خیرات کے ذریعے ایصالِ ثواب کیا جاتا تھا اور ان تمام اعمال میں خلوص اور خاموشی نمایاں ہوتی تھی۔ مقصد مرحوم کے لیے خیر طلب کرنا اور اپنے دلوں کو آخرت کی یاد سے نرم کرنا ہوتا تھا۔
لیکن افسوس کہ آج کے دور میں برسی کا تصور ہی بدل کر رہ گیا ہے۔ اب برسی کے نام پر جلسے، تقریری پروگرام، بینرز، بڑے اجتماعات اور فوٹو سیشنز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جس لمحے میں عاجزی اور دعا ہونی چاہیے، وہاں شہرت، دکھاوا اور لوگوں کی نظروں میں نمایاں ہونے کی خواہش غالب آ گئی ہے۔
یہی حال تعزیت کے موقع پر بھی ہے۔ پہلے لوگ قرآن خوانی اور دعا کے لیے جاتے تھے، لواحقین کے دکھ کو بانٹنے کی نیت رکھتے تھے، لیکن اب اکثر لوگ صرف رسمی حاضری اور تصاویر کے لیے جاتے ہیں تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ “فلاں شخص تعزیت کے لیے آیا تھا”۔
سوال یہ ہے کہ اسلام کو پیچھے رکھ کر ہم آخر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟
اسلام نے ہمیں سادگی، خلوص، ہمدردی اور دل کی نرمی کی تعلیم دی ہے۔ دعا، خیرات اور ایصالِ ثواب کے عمل کو ہم نے پسِ پشت ڈال کر ان مواقع کو محض سماجی تقریبات میں بدل دیا ہے۔ یہ رویّے نہ صرف دینی تعلیمات کے منافی ہیں بلکہ معاشرتی اخلاقیات کی بھی خلاف ورزی ہیں۔
یہ سماجی بیماری تب تک ختم نہیں ہوگی جب تک ہم اپنی اقدار کو پہچان کر ان کی طرف لوٹنے کی کوشش نہ کریں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دکھاوے اور نمائشی روایتوں کے بجائے اخلاص، سادگی اور اصل دینی روح کی طرف واپس آئیں تاکہ نہ صرف مرحومین کے لیے حقیقی ایصالِ ثواب ہو سکے بلکہ ہمارے معاشرے میں روحانیت، ہمدردی اور انسانیت بھی بحال ہو۔

