ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات انسانی نفسیات پر

ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات انسانی نفسیات پر

تحریر: شاکر منظور
جغرافیہ کے اثرات انسانی نفسیات پر گہرے ہوتے ہیں۔ یہ انسانی طبیعت، مزاج اور ذہنی صحت کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔ انسان فطری طور پر درختوں، پہاڑوں، دریاؤں، سمندروں اور جانوروں کو پسند کرتا ہے۔ اس پسند کے پیچھے انسان کی نفسیات، شناخت اور جبلت کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ جب ماحول، جنگلات اور پہاڑوں کو نقصان پہنچایا جاتا ہے تو انسان کو تکلیف ہوتی ہے، کیونکہ اس کا اپنے ماحول کے ساتھ ایک جذباتی تعلق ہوتا ہے۔ ضلع کیچ میں پہاڑوں کی کٹائی، ندیوں میں کرش پلانٹ لگانا اور اربن پلاننگ کی کمی نے شہر کے ایکو سسٹم کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا ہے، جس کے باعث مقامی لوگوں کی ذہنی صحت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ 2002 کے بعد تربت میں ماس ڈسپلیسمنٹ اور اربنائزیشن شروع ہوتے ہی زمینوں کی خرید و فروخت نے لوگوں میں پیسے کی ہوس پیدا کر دی۔ ابتدا میں کھلے میدانوں، زرعی زمینوں اور کیچ کور ندی پر تجاوزات کا آغاز ہوا، لیکن جب انکروچمنٹ کے رجحانات بڑھ گئے تو لوگوں نے تربت شہر کے آس پاس کے پہاڑوں کو بھی بلڈوز کرنا شروع کر دیا۔ پہاڑوں اور جنگلات کی کٹائی نے علاقے میں ماحولیاتی بحران پیدا کر دیا ہے، جس کے براہِ راست متاثرین مقامی لوگ ہیں۔ زمینوں پر قبضے کی ذہنیت پہلے کراچی جیسے بڑے شہروں میں عام تھی، جو رفتہ رفتہ بلوچستان میں بھی شدت کے ساتھ پھیل گئی۔ اس رجحان نے تربت سمیت پورے بلوچستان کو متاثر کیا ہے۔ پہلے کیچ کور ندی میں کرش پلانٹس لگانا، ندی سے بجری اور پتھر نکالنا، ریگستان (مولودءِ ریک) پر قبضہ کرنا، اور ڈمپروں، ریک لین اور ہیوی ٹرکوں سے بھتہ لینا عام تھا، اور اب پہاڑوں، ندیوں اور جنگلات پر دھندہ ہو رہا ہے۔ انکروچمنٹ اور پہاڑوں کی کٹائی نے علاقے کے جغرافیہ، ڈیموگرافی اور زرعی ساخت کو خستہ حال کر دیا ہے۔ مزید یہ کہ جنگلات کی کٹائی سے نہ صرف ماحولیاتی تبدیلی، ہوائی آلودگی اور ایکو سسٹم متاثر ہو رہا ہے، بلکہ چرند پرند اور دیگر جانور بھی خطرے میں ہیں۔ ساتھ ہی لوگ اپنے وجود اور زمین سے بیگانہ ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پہاڈوں کی کٹائی سے شہر کی خوبصورتی متاثر ہو رہی ہے، بارش اور پانی کی قلت پیدا ہو رہی ہے، اور مقامی لوگوں کی طبیعت و نفسیات بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے، کیونکہ مقامی لوگ پہاڑوں کو اپنے وجود اور شناخت سے جوڑتے ہیں۔ پہاڑ ان کی پہچان ہیں اور ان کی شناخت، یادداشت، جذبات اور نفسیات کا حصہ ہیں۔ سرمایہ داروں کی نظر میں یہ پہاڑ اور جنگلات صرف سرمایہ ہیں، لیکن مقامی لوگوں کے لیے یہ زندگی کا حصہ ہیں۔ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ انکروچمنٹ چند لوگوں کو وقتی فائدہ دے سکتی ہے، لیکن اس کے مستقل اور تاریخی نقصانات مقامی لوگوں کو ہی بھگتنا پڑیں گے۔ ترقی اور ہاؤسنگ اسکیمز کے نام پر پہاڑوں کی کٹائی نہ صرف ایکو سسٹم، لائیو اسٹاک اور زراعت کو متاثر کر رہی ہے بلکہ مقامی ثقافت اور نفسیات کو بھی شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ نظامِ فطرت کے اصول کے مطابق، جو چیز فطرت کے خلاف جاتی ہے، اس کا ردِعمل کبھی نہ کبھی ظاہر ہوتا ہے۔ کیچ کور ندی میں غیر ضروری درخت (ببور) لگانے کے باعث 1998 اور 2007 میں تربت میں دو بڑے سیلاب آئے جن میں مقامی لوگ، ان کے گھر اور مال مویشی متاثر ہوئے۔ صوبائی حکومت، بلوچستان ہائی کورٹ اور اعلیٰ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اربنائزیشن کے لیے باقاعدہ شہری منصوبہ بندی کریں، بلوچستان کے ایکو سسٹم، لائو اسٹاک، ماحولیات اور زرعی زمینوں کو بچانے میں اپنا کردار ادا کریں، تاکہ مکران بشمول تربت کے لوگ قبضہ مافیا کے استحصال، ماحولیاتی جبر، ڈیموگرافک مسائل اور نفسیاتی دباؤ سے محفوظ رہیں۔