بلوچستان کا کھویا ہوا اثاثہ

بلوچستان کا کھویا ہوا اثاثہ
تحریر: شہزاد بدل

استاد راشد دیدار بلوچ 1973 میں کیچ کے چھوٹے سے گاؤں پیدارک میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے ان کے اندر مطالعے، سوچنے اور لفظوں کو محسوس کرنے کی ایک عجیب سی تڑپ موجود تھی۔ کتابیں ان کے بچپن کی خاموش ساتھی تھیں، اور لفظوں کی خوشبو ان کے دل کے اندر کسی میٹھے راز کی طرح بسی ہوئی تھی۔ مگر زندگی ہمیشہ اپنے راستے آسان نہیں رکھتی۔ 1993 میں ایف اے کے امتحان میں ناکامی نے ان کے حوصلے کو چکناچور کر دیا۔ اسی ناکامی کے موڑ پر انہوں نے تعلیم کا سفر وہیں روک دیا شاید اگر حالات مختلف ہوتے تو یہ کہانی اور طرح لکھی جاتی۔ انہی دنوں ایک محبت نے ان کے دل میں جگہ بنائی، مگر یہ محبت بھی وفا نہ کر سکی۔ عشق کی شکست نے ان کے قدم ڈگمگا دیے اور وہ رفتہ رفتہ منشیات کے اندھیروں میں گم ہونے لگے۔ گھر والوں نے بہت کوشش کی، انہیں سمجھایا، سہارا دیا، یہاں تک کہ انہیں بیرون ملک لے جانے کی بات بھی کی۔ مگر راشد دیدار بلوچ نے صاف کہا میں تربت، پیدارک اور بلوچ مٹی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ وقت کے ساتھ راشد کی حالت بگڑتی چلی گئی۔ انہیں تین بار علاج کے لیے داخل کرایا گیا، مگر وہ نشہ چھوڑ نہ سکے کیونکہ نشہ ایک ایسی لت ہے کہ جب لگ جائے تو اس سے نکلنا ایک جنگ سے کم نہیں ہوتا اور ہر بار وہ شکست کھا جاتے لیکن اس شکست نے بھی ان کے اندر کے شاعر کو نہیں مارا لفظ اب بھی ان کے اندر سانس لیتے ہیں، ان سے باتیں کرتے ہیں، انہیں تھامے رکھتے ہیں۔آج بھی راشد تربت کی گلیوں میں دکھ، غم اور سرد و گرم کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ کبھی بغیر چپل کے، کبھی بغیر مناسب کپڑوں کے، وہ اپنی ہی دنیا میں کھوئے نظر آتے ہیں۔ کبھی کسی دکان دار کو کوئی شعر سنا کر چند روپے لے لیتے ہیں، کبھی کباڑ اٹھا کر اپنی بنیادی ضرورتیں پوری کر لیتے ہیں۔ مگر ان کے لفظ وہ اب بھی ان کے اپنے ہیں، اور وہ اب بھی لفظوں سے محبت کرتے ہیں۔ بلوچ ادبی حلقوں نے ان کے بکھرے ہوئے اشعار، ان کے دکھ، محبت اور حقیقت کی گواہی دینے والی لائنوں کو اکٹھا کرکے ایک کتاب کی صورت دی ہے جس کا نام ہے، بنی آدم ئے عشقءَ مہ کپ۔ یہ کتاب ان لوگوں کی محنت اور محبت کا نتیجہ ہے جو جانتے ہیں کہ ایسے شاعر روز روز نہیں پیدا ہوتے، اور لفظوں کی حرمت کو سمجھتے ہیں۔ راشد دیدار کی زندگی کا دکھ صرف ان کی ذات کا نہیں، بلکہ پورے بلوچستان کا نوحہ ہے ایک ایسے بلوچستان کا جہاں منشیات آسانی سے دستیاب ہے جبکہ ایک غریب کے لیے سبزی/انڈا تک پہنچنا مشکل ہے۔ جہاں ایک عظیم شاعر اپنی پہچان کے باوجود سڑکوں پر بھٹکتا رہتا ہے، اور لوگ پہچان کر بھی کچھ نہیں کر پاتے۔ راشد دیدار بلوچ، بلوچ قوم کا ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔ وہ بلوچی زبان کے نامور شاعر ہیں۔ آج وقت ہے کہ ہم صرف افسوس نہ کریں بلکہ عملی قدم اٹھائیں انہیں علاج کی ضرورت ہے، سہارا دینے کی ضرورت ہے، عزت اور حفاظت کی ضرورت ہے۔ ان کی قدر کی جائے اس سے پہلے کہ یہ اثاثہ ہم سے ہمیشہ کے لیے چھن جائے۔ اور اگر کبھی راشد آپ کے سامنے آجائیں اور آپ بھیک نہ دینا چاہیں، تو صرف آہستہ سے پوچھ لینا آپ راشد دیدار بلوچ ہیں؟ وہی شاعر؟ یہ سنتے ہی وہ اپنی خشک آنکھیں جھکا لیں گے، آہستہ سے ایک طرف ہو جائیں گے۔ کیونکہ ان کے اندر اب بھی لفظوں کی شرم باقی ہے وہی لفظ جو عشق کی شکست میں جنم لیے تھے، اور آج بھی ان کے دل کا آخری اثاثہ ہیں۔