بلوچستان میں معاشی بحران اور ایران سرحد کی بندش
تحریر: صابر رشید
بلوچستان میں معاشی حالات دن بدن ابتری کا شکار ہو رہے ہیں۔ صوبے کی معیشت جو پہلے ہی کمزور بنیادوں پر کھڑی تھی، اب ایک نئے بحران کی لپیٹ میں آ چکی ہے۔ ایران کے ساتھ سرحدی تجارت کی بندش نے نہ صرف روزگار کے مواقع ختم کر دیے ہیں بلکہ عوامی بے چینی میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ بلوچستان کی ایران کے ساتھ طویل سرحد نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے اہم ہے بلکہ صوبے کی معاشی زندگی کا بنیادی سہارا بھی ہے۔ تربت، پنجگور، مند، چاغی اور تفتان جیسے سرحدی علاقے برسوں سے اسی تجارت کے ذریعے اپنی گزر بسر کر رہے ہیں۔ ہزاروں مزدور، ٹرانسپورٹر، چھوٹے دکاندار اور مقامی تاجر اسی بارڈر ٹریڈ سے وابستہ ہیں۔ لیکن حالیہ عرصے میں سرحد کی بار بار بندش نے ان سب کے لیے معاشی مشکلات کو شدید کر دیا ہے۔ بلوچستان میں صنعتوں کا فقدان اور زراعت کی محدود صلاحیت پہلے ہی صوبے کی ترقی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ سرحدی تجارت ہی وہ واحد ذریعہ تھی جس سے مقامی معیشت میں کچھ حرکت باقی تھی۔ مگر اب جب سرحد بند ہے تو نہ صرف کاروبار ماند پڑ گئے ہیں بلکہ روزگار کے دروازے بھی بند ہو چکے ہیں۔ نتیجتاً لوگ یا تو نقل مکانی پر مجبور ہیں یا قرضوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔ یہ صورتحال محض ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی بحران میں تبدیل ہو رہی ہے۔ جب لوگوں کے روزگار کے مواقع چھین لیے جائیں تو مایوسی اور بداعتمادی جنم لیتی ہے۔ بلوچستان کے عوام پہلے ہی احساسِ محرومی کا شکار ہیں، اور سرحدی بندش نے اس زخم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ حکومت کو اس مسئلے کو وقتی انتظام کے بجائے پائیدار حکمتِ عملی کے ذریعے حل کرنا ہوگا۔ سرحد کو بند کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ منظم اور قانونی تجارت کا نظام قائم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اس سے نہ صرف عوام کو روزگار میسر آئے گا بلکہ ریاست کو محصولات کی شکل میں خاطر خواہ فائدہ بھی ہوگا۔ بلوچستان کی ترقی کے لیے لازم ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں سرحدی تجارت کے حوالے سے واضح پالیسی تشکیل دیں۔ مقامی تاجر اور مزدور دشمن نہیں، بلکہ وہ ریاست کی معیشت کے خاموش سپاہی ہیں۔ اگر انہیں جائز مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی لوگ بلوچستان کو معاشی طور پر مستحکم کر سکتے ہیں۔

