سرخی: تربت: صوبائی مشیر کھیل و امورِ نوجوانان مینا مجید بلوچ کا مکران میڈیکل کالج کا دورہ، ادارے کو مکمل تعاون کی یقین دہانی

تربت(گدروشیا پوائنٹ) صوبائی مشیر برائے اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز بلوچستان مینا مجید بلوچ نے مکران میڈیکل کالج تربت کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے پرنسپل آفس میں کالج کے انتظامی و تعلیمی مسائل سے متعلق بریفنگ حاصل کی۔ اس موقع پر پرنسپل ڈاکٹر افضل خالق نے صوبائی مشیر کو ادارے کی کارکردگی اور درپیش مشکلات سے آگاہ کیا۔ مینا مجید بلوچ نے کالج کے مختلف شعبوں، لائبریری اور تدریسی کمروں کا معائنہ کیا اور اسٹوڈنٹس سے ملاقات کر کے ان کے مسائل سنے۔ اس موقع پر صوبائی مشیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مکران میڈیکل کالج سمیت صوبے کے تمام تعلیمی اداروں کی بہتری حکومت کی ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم مکران میڈیکل کالج کو بھرپور سپورٹ کریں گے، جیسے دیگر اداروں کو کرتے ہیں۔ بلوچستان آدھا پاکستان ہے، اور ہماری کوشش ہے کہ ترقیاتی بجٹ کا زیادہ سے زیادہ فائدہ عوام تک پہنچے۔” انہوں نے کہا کہ صوبے کو بجٹ کے چیلنجز کا سامنا ضرور ہے لیکن حکومت تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری کے لیے کوشاں ہے۔ “ہم مکران میڈیکل کالج کے بجٹ میں کٹوتی کے باوجود ادارے کے مسائل کے حل کے لیے آواز بنیں گے، مشترکہ جدوجہد سے ہم بہت سے مسائل پر قابو پا سکتے ہیں۔” پرنسپل ڈاکٹر افضل خالق نے بریفنگ میں بتایا کہ کالج محدود وسائل کے باوجود تدریسی اسٹاف کے تعاون سے بہترین تعلیمی خدمات فراہم کر رہا ہے۔ ان کے مطابق بولان میڈیکل کالج کے مقابلے میں مکران میڈیکل کالج کئی پہلوؤں میں بہتر ہے لیکن فنڈز کی کمی کے باعث مشکلات درپیش ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فنڈز میں کٹوتی کے باعث اس سال اسپورٹس بجٹ زیرو ہوگیا ہے جس سے طلبہ کی کھیلوں کی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔ بجلی کے بحران پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کالج کو سولر سسٹم پر منتقل کیا جائے تو یہ ایک دیرپا حل ہوگا۔ صوبائی مشیر مینا مجید بلوچ نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ “سولر سسٹم کے لیے بڑی رقم درکار ہے لیکن اگر ضلع کیچ کے منتخب نمائندے تعاون کریں تو میں بھی اپنا حصہ ضرور دوں گی۔” ان کے اس اعلان پر کالج انتظامیہ اور اسٹوڈنٹس نے شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ حکومت کی عملی توجہ سے مکران میڈیکل کالج کا معیار مزید بلند ہوگا۔
اس موقع پر انہوں نے گدروشیا پوائنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا سب سے پہلے تو میں مکران میڈیکل کالج کے پرنسپل اور پورے انسٹیٹیوشن کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گی جنہوں نے ہمیں مدعو کیا۔ یہاں آ کر میں نے مختلف ڈیپارٹمنٹس کا دورہ کیا، اسٹوڈنٹس سے ملاقات کی، لیبارٹریز اور کلاس رومز کا جائزہ لیا۔ مجھے کالج کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی کہ کتنی تعداد میں طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، وہ کہاں کہاں سے تعلق رکھتے ہیں، اور فیکلٹی کی صورتحال کیا ہے۔ جس طرح دیگر اداروں کے کچھ مسائل ہوتے ہیں، اسی طرح یہاں کے بھی کچھ چیلنجز ہیں جنہیں میں نے نوٹ کیا ہے۔ میری پوری کوشش ہوگی کہ یہ تمام مسائل وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی صاحب تک پہنچاؤں، کیونکہ ہم ان کے نمائندے ہیں اور اپنے حلقوں کے تعلیمی اداروں کو بہتر بنانے کے لیے ہم ہمیشہ سپورٹ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، طلبہ نے اسپورٹس ویک کے حوالے سے تعاون کی درخواست کی ہے۔ میں نے وعدہ کیا ہے کہ انشاءاللہ آئندہ ایک ہفتے کے اندر اندر انہیں مکمل سپورٹ فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے اسپورٹس گراؤنڈ اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی کی بھی بات کی، جس کے لیے میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کراتی ہوں۔