تربت (گدروشیا پوائنٹ) تربت و گوادر ٹو کوئٹہ شاہراہ علاقہ ہیرونک کراس موڑ پر مرد و خواتین نے پلے کارڈز اٹھا کر دھرنا دے دیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ تیل بردار زمیاد گاڑیوں کی تیز رفتاری اور ناتجربہ کار ڈرائیوروں کی وجہ سے انکے اہلِخانہ کے تین قیمتی افراد افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہوچکا ہے۔ جن میں شاہجان ولد رحیم بخش، جو مکران میڈیکل کالج تربت کے ڈپٹی پروجیکٹ ڈائریکٹر تھے نعیم ولد نبی بخش سکنان ہیرونک اور بہادر ولد ہاشم سکنہ شاپک جاں بحق اور ساتھی ڈاکٹر شبیر ولد میران زخمی مشامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تیل کے کاروبار کے خلاف نہیں، بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ڈرائیوروں کو ڈرائیونگ کا بنیادی شعور دیا جائے۔ ان گاڑیوں کی خطرناک ڈرائیونگ نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور اب تک متعدد افراد کو ہلاک اور زخمی کرچکی ہے۔ مظاہرین نے تمام متاثرہ خاندانوں سے اپیل کی کہ وہ اس احتجاج کے ذریعے اپنی آواز بلند کریں۔ احتجاج میں شریک مرد و خواتین کا کہنا تھا کہ وہ کئی بار تربت انتظامیہ اور ٹریفک حکام کو شکایات درج کرا چکے ہیں مگر کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ تیل بردار زمیاد گاڑیوں کے روٹ میں فوری تبدیلی کی جائے تاکہ شہریوں کی جانیں محفوظ رہ سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ احتجاج کو مزید وسعت دیں گے۔

