دالبندین (گدروشیا پوائنٹ) دالبندین بازار کا ماسٹر پلان سہولت کے بجائے زحمت اور بیماری کا سبب بن گیا سابقہ اور موجودہ عوامی نمائندوں کی عدم دلچسپی اور ایکسین بی اینڈ آر کی لاپرواہی کی وجہ سے شہری عذاب میں مبتلا ہو گئے عوامی حلقوں کا ٹھیکیدار کے نااہلی کے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق ضلع چاغی کے صدر مقام دالبندین بازار کا ماسٹر پلان گزشتہ دور حکومت میں 2019 میں اربوں روپوں کی فنڈز سے منظور ہوا تھا جسے علاقے کے ہر طبقے نے سراہا کہ دالبندین بازار کی خوبصورتی دوبالا ہوگی مگر شومئ قسمت کہ دالبندین بازار کی حالت ماسٹر پلان کی وجہ سے کھنڈر بن گیا سابقہ دور حکومت میں منظور ہونے والے ماسٹر پلان کے تحت بننے والے سیوریج نالیاں تعمیر کے مکمل ہونے سے پہلے ہی زمین بوس ہو گئے ناتجربہ کار ٹھیکیدار اور نااہل ایکسین و انجینئر کی لاپرواہی کی وجہ سے نہ صرف عوام کے اربوں روپے مٹی کی نذر ہوگئے بلکہ کہی سالوں سے زیر التواء ادھورے کام کی وجہ سے شہری نزلہ زکام سمیت دیگر بیماریوں میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ ذہنی کوفت کا شکار ہو چکے ہیں کاروباری حلقوں خصوصاً روڈ کے قریبی دکانداران اور ہوٹل والوں کو سخت دقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے دوسری جانب علاقے کے منتخب عوامی نمائندے اور سابقہ نمائندے کی خاموشی اور عدم دلچسپی باعث تشویش ہے موجودہ نمائندے ماسٹر پلان کے کام کو سابقہ حکومت کی کرپشن قرار دیتے ہیں جبکہ سابقہ نمائندہ موجودہ نمائندے کی طرف سے فنڈز روکنے کا بہانہ بنا کر کام کی وجہ بتا رہی ہیں اس سیاسی اختلاف کی ضد میں عام شہری شدید متاثر ہیں عوامی حلقوں نے چیف سیکرٹری بلوچستان اور متعلقہ محکمے کے بالا آفیسران سے مطالبہ کیا کہ وہ ماسٹر پلان کے زیر التواء کام کی تحقیقات کرکے نااہل ایکسین اور ٹھیکیدار کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لا کر شہریوں کو اس عذاب سے نجات دلائی جائے

