تربت: مکران میڈیکل کالج میں بریسٹ کینسر آگاہی سیمینار، خواتین میں شعور اجاگر کرنے پر زور

تُربت (گدروشیا پوائنٹ)ایم ایس اے پاکستان کے زیرِ اہتمام مکران میڈیکل کالج میں بریسٹ کینسر آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ تقریب میں مکران میڈیکل کالج کے اساتذہ، ٹیچنگ ہسپتال تربت کے ڈاکٹروں، نرسنگ کالج اور گرلز ڈگری کالج کی طالبات سمیت بڑی تعداد میں شرکاء نے شرکت کی۔ اس موقع پر مکران میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر افضل خالق، ٹیچنگ ہسپتال تربت کے ایم ایس ڈاکٹر وحید بلیدی، ڈاکٹر نعمان احمد ، ڈاکٹر فدا احمد ، ڈاکٹر ثناءاللہ ،ڈاکٹر نازیہ نصیر، ڈاکٹر روبینہ امجد، ڈاکٹر صائقہ رفیق اور ڈاکٹر مصباح منیر سمیت دیگر ماہرینِ طب شریک تھے۔ ڈاکٹر نازیہ نصیر نے کہا کہ چھاتی کا کینسر قابلِ علاج بیماری ہے، مگر اس کا خوف لوگوں کے دلوں میں گھر کر چکا ہے۔ جب مریض کو پتہ چلتا ہے کہ اسے کینسر ہے تو وہ حوصلہ ہار دیتا ہے، حالانکہ اگر بروقت تشخیص ہو تو علاج ممکن اور مؤثر ہے۔ مریض کو دلاسہ دینا اور امید دلانا بھی علاج کا حصہ ہے۔ ڈاکٹر صائقہ رفیق نے بتایا کہ چھاتی کے سرطان کے علاج کے مختلف جدید طریقے موجود ہیں، جن میں سرجری، کیموتھراپی، ریڈیوتھراپی اور ہارمونل علاج شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں علاج آسان اور کامیابی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر روبینہ امجد نے کہا کہ چھاتی کے ساتھ ساتھ خواتین میں سروائیکل کینسر بھی عام ہوتا جا رہا ہے، لیکن آگاہی کی کمی کی وجہ سے خواتین بروقت تشخیص نہیں کروا پاتیں۔ ہمیں معاشرے میں یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ ہر بیماری موت نہیں ہوتی ، طب نے بے پناہ ترقی کر لی ہے، اور اب کینسر بھی قابلِ علاج ہے۔ ڈاکٹر فدا احمد نے کہا کہ چھاتی کا کینسر اگر وقت پر تشخیص ہو جائے تو مکمل علاج ممکن ہے۔ کینسر کے نام سے خوف زدہ ہونے کے بجائے علاج کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ لوگ جتنا جلدی ٹیسٹ کرائیں گے، اتنا ہی آسان علاج ہوگا۔ ڈاکٹر ثناءاللہ نے کہا کہ پیتھالوجی کے شعبے کا کردار اس حوالے سے کلیدی ہے۔ تشخیص کے بغیر علاج ممکن نہیں، اس لیے ہر مریض کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی معمولی علامات کو بھی نظرانداز نہ کرے اور فوری میڈیکل چیک اپ کرائے۔ ڈاکٹر مصباح منیر نے کہا کہ چھاتی کا سرطان صرف ایک میڈیکل نہیں بلکہ سماجی مسئلہ بن چکا ہے۔ اس کی ابتدا عموماً چھاتی پر ایک چھوٹے دانے یا گلٹی کی صورت میں ہوتی ہے، جسے خواتین عموماً معمولی سمجھ کر نظرانداز کر دیتی ہیں۔ یہی لاپرواہی بعد میں خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ چھاتی میں گلٹی یا دانہ محسوس ہونا،چھاتی کے سائز یا شکل میں غیر معمولی تبدیلی،نپل سے غیر معمولی رطوبت یا خون آنا،چھاتی یا بغل کے علاقے میں سوجن یا درد،جلد پر جھریاں یا لالی ظاہر ہونا، ڈاکٹروں نے کہا کہ اگر ان میں سے کوئی بھی علامت ظاہر ہو تو فوراً قریبی اسپتال یا ماہر ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔ پروگرام کے اختتام پر مکران میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر افضل خالق نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کا فرض ہے کہ آج حاصل کی گئی معلومات کو معاشرے میں عام کریں تاکہ کسی کی زندگی بچائی جا سکے۔
آخر میں شرکاء میں شیلڈز اور سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے.