تربت/گوادر:کوسٹ گارڈ اہلکاروں کے رویے اور تاخیر کے خلاف ٹرانسپورٹرز کا احتجاجی انتباہ

تربت/گوادر (گدروشیا پوائنٹ) یونین سندھ بلوچستان بس اونر ایسوسی ایشن نے ڈائریکٹر جنرل پاکستان کوسٹ گارڈ اور حکومت کے نام ایک کھلا خط جاری کرتے ہوئے کوسٹ گارڈ اہلکاروں کی جانب سے مسافر بسوں کے ساتھ غیر مناسب رویے اور غیر ضروری تاخیر کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ کراچی سے گوادر کے درمیان سفر کرنے والے مسافر اور ٹرانسپورٹرز مسلسل مشکلات کا شکار ہیں۔ بدوک، فور ندی اور کھار راڈی چیک پوسٹس پر کوسٹ گارڈ اہلکار مسافر بسوں کو تین سے چار گھنٹے تک بلاوجہ روک لیتے ہیں، جس سے خواتین، بچے، مریض اور معذور افراد شدید پریشانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ بیان کے مطابق بعض اوقات اہلکاروں کا مسافروں سے رویہ بھی غیر شائستہ ہوتا ہے، جو انسانی وقار کے خلاف ہے۔ ایسوسی ایشن نے حکام بالا سے اپیل کی ہے کہ مسافر بسوں کی چیکنگ صرف قانونی تقاضوں کے مطابق اور کم سے کم وقت میں مکمل کی جائے، مسافروں سے باعزت رویہ اختیار کیا جائے، اور بدوک سمیت تمام چیک پوسٹس کے نظام کا ازسرنو جائزہ لیا جائے تاکہ غیر ضروری تاخیر ختم ہو سکے۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ مکران روٹ پر چیکنگ کے لیے ایک مرکزی و منظم پوائنٹ قائم کیا جائے تاکہ ٹرانسپورٹرز اور مسافروں دونوں کو سہولت میسر آ سکے۔ یونین نے خبردار کیا ہے کہ اگر دو سے تین دن کے اندر مطالبات پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو ٹرانسپورٹرز سخت احتجاج پر مجبور ہوں گے۔ احتجاج کے طور پر بسیں اوتھل ہیڈکوارٹر یا گوادر ہیڈکوارٹر کے سامنے کھڑی کی جائیں گی۔