تربت(گدروشیا پوائنٹ) آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک سینٹرل لیبر یونین سی بی اے مکران سرکل کیسکو کے زیرِ اہتمام تربت کیسکو آفس میں “ادارے کی ترقی، صارفین کی خدمت، کارکنوں کی فلاح و بہبود اور جان کی حفاظت” کے موضوع پر ایک روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔
سیمینار کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، حافظ داؤد نے تلاوت جبکہ بہار علی نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔
تقریب میں مکران ڈویژن کے تینوں اضلاع کیچ، پنجگور اور گوادر کے واپڈا کے کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ صوبائی قائدین کی آمد پر شرکاء نے پُرجوش انداز میں نعرے بازی کی، “مزدور اتحاد زندہ باد”، “واپڈا کی نجکاری نامنظور”، “حاجی رمضان تیرے جانثار بےشمار”، “عزت والا غیرت والا ہائیڈرو والا” جیسے نعروں سے فضا گونج اٹھی۔
مہمانِ خصوصی مرکزی جوائنٹ صدر صوبائی چیئرمین حاجی رمضان اچکزئی اور صوبائی وائس چیئرمین عبدالباقی لہڑی تھے۔ مہمان خصوصی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم مزدور قوم ہیں، لیکن ہمارے اوپر ایک ظالم اور جابر طبقہ مسلط کر دیا گیا ہے۔ ہم ان کے خلاف میدان میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے کیونکہ طاقتور طبقات نے بجلی کے پیداواری معاہدوں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے واپڈا کی نجکاری کی کوشش کی تو ہم پورے ملک کی بجلی بند کر دیں گے۔
حاجی رمضان اچکزئی نے کہا کہ بجلی انسانی بنیادی حق ہے، اور اگر حکومت سستی بجلی فراہم کرے تو زراعت، صنعت اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور ملک ترقی کرے گا۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مکران ڈویژن میں امن و امان کی فضا بحال کی جائے، کیونکہ یہاں آئے روز قتل و غارت گری ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا تھایہ کیسا گوادر ہے جس پر دنیا کی نظریں ہیں مگر وہاں کے عوام کو پینے کا پانی تک میسر نہیں۔ حکومت بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے۔انہوں نے مولانا ہدایت الرحمان اور حق دو تحریک پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ عوام کی امنگوں پر پورا نہیں اتر رہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ ان کی جدوجہد مزدور طبقے اور ادارے کی بقا کے لیے جاری رہے گی اور ہمارا اتحاد رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر مزدور کے حق کے لیے ہے۔
اس موقع پر سرکل چیئرمین افتخار احمد، ایکسیئن آپریشن تربت عبد الحفیظ انصاری ، ایکسیئن گریڈ اسٹیشن تربت یاسین بلوچ ، چیئرمین پاور ہاؤسز محسن بھٹو،سب ڈویژن چیئرمین ذاکر مراد بلوچ، ڈویژن چیئرمین محمد عارف وفا، ، آصف فقیر، اور پنجگور و گوادر کے تمام عہدیداران نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مکران کے محنت کشوں کو معیاری حفاظتی سامان (ٹی اینڈ پی، پی۔ای بکٹ، کرین وغیرہ) فراہم کیا جائے تاکہ کارکنان کی جانوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ کا تحفظ، آپ کے خاندان کی ضمانت ہے۔
محسن بھٹو نے کہا کہ واپڈا کے کارکنان اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر عوام کو روشنی فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا بجلی کا کام موت کے دہانے پر ہے، ایک غلط قدم زندگی کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ مگر ہمارے ورکر بغیر سہولیات کے عوام کو بجلی فراہم کرتے ہیں یہی ان کی قربانی ہے۔
افتخار احمد نے کہا کہ ہائیڈرو یونین سیاسی پشت پناہی کے بغیر مزدوروں کے لیے کام کرنے والی واحد تنظیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکران کے 70 ہزار کنزیومرز کے لیے صرف 242 مزدور کام کر رہے ہیں جو ادارے کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ محکمے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اسٹاف کی کمی پوری کی جائے اور مزید گاڑیاں فراہم کی جائیں۔
ایکسئین تربت حفیظ اللہ انصاری نے کہا کہ ادارے کی ترقی کا دارومدار محنت کشوں پر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ واپڈا ایک کمرشل ادارہ ہے جو حکومت سے بجلی خرید کر عوام کو سستے داموں میں فراہم کر رہا ہے، لہٰذا تمام عملہ ریکوری پر فوکس کرے تاکہ ادارے کو مستحکم بنایا جا سکے۔
ایس ایس اینڈ ٹی یاسین بلوچ نے کہا کہ ریکوری نہ ہونے کی وجہ سے ادارہ مالی مشکلات کا شکار ہے اور اس میں بہتری لانے کی فوری ضرورت ہے۔
وائس چیئرمین عبدالباقی لہڑی نے کہا کہ یونین کی طاقت اتحاد میں ہے۔انہوں نے کہا ہم متحد ہیں، منظم ہیں، اور رہیں گے۔ اب تک 131 کارکنان اپنے فرائض کے دوران شہید ہو چکے ہیں خدارا اپنی حفاظت خود کریں، کسی پر اندھا اعتماد نہ کریں۔
اسٹیج سیکریٹری کے فرائض قدیر احمد نے انجام دیے۔ انہوں نے تقاریر کے دوران مزدوروں کو پرجوش نعروں سے جوش دلایا۔
سیمینار کے اختتام پر “طاقتور کے خلاف انقلاب، مزدور اتحاد زندہ باد” کے نعروں سے فضا گونج اٹھی۔
واپڈا کی نجکاری کے خلاف جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
مکران کے محنت کشوں کو حفاظتی آلات، کرین، بکٹ اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جائیں۔ریکوری نظام میں شفافیت اور اصلاحات لائی جائیں۔مکران ڈویژن میں امن و امان قائم کیا جائے۔
جس میں شرکاء نے “واپڈا زندہ باد، مزدور اتحاد پائندہ باد” کے نعروں سے اپنی وابستگی اور عزم کا اظہار کیا۔

