دالبندین(گدروشیا پوائنٹ)بلوچستان نیشنل پارٹی ڈسٹرکٹ چاغی نے اپنے ایک بیان میں پاک ایران بارڈر کی مسلسل بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بارڈر کی مسلسل بندش سے سرحدی علاقوں کے لوگ نان شبینہ کا محتاج ہوکر سوکھی روٹی تک کو ترس رہے ہیں کیونکہ سرحدی علاقوں کے لوگوں کا ذریعہ معاش بارڈر کے کاروبار پر منحصر ہے اور سرحدی علاقوں کے لوگوں کا گزر بسر انہی بارڈر کے کاروبار سے وابستہ ہیں راجے گذر سمیت دیگر کاروباری پوائنٹس کی بندش اور تفتان زیرو پوائنٹ سے اشیاء خوردونوش کی پابندی نے بارڈر کے لوگوں کو نقل مکانی اور فاقہ کشی پہ مجبور کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ جب سے فارم 47 کی حکومت بلوچستان کے لوگوں پہ مسلط کی گئی ہے لوگوں کے لیے روزگار کے تمام دروازے بند کر دئیے گئے ہیں اسمبلیوں میں گونگے بہرے کٹھ پتلیوں کو بٹھا کر صرف اور صرف بے معنی اور غیر ضروری ترامیم کا سہارا لیا جا رہا ہے جس سے بلوچستان کے عام طبقے کو کوئی فائدہ مہیسر نہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی بحیثیت قومی پارٹی کے دونوں ممالک کے حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ سرحد کے دونوں اطراف میں رہنے والے رہائشیوں کے مجبوریوں و مشکلات کو مدنظر رکھ کر راجے گذر سمیت دیگر کاروباری پوائنٹس کو کھولنے کیلئے اقدامات کریں تا کہ سرحدی علاقوں کے لوگ باعزت طریقے سے اپنا گذر بسر کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں

