اسلام آباد (گدروشیا پوائنٹ) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور سینیئر سیاستدان و پارلیمنٹیرین سید احسان شاہ کے درمیان اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں بلوچستان مائنز اینڈ منرل بل، صوبے کی موجودہ سیاسی، سماجی و معاشی صورتحال، گورننس میں شفافیت، ادارہ جاتی مضبوطی اور ترقیاتی ترجیحات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
گفتگو کے دوران بلوچستان مائنز اینڈ منرل بل پر خصوصی طور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ سید احسان شاہ نے بل کے مختلف نکات، اس کے ممکنہ اثرات اور صوبے کے عوامی مفاد سے متعلق پہلوؤں پر اپنی تجاویز وزیراعلی کو پیش کیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل بلوچستان کے عوام کی ملکیت ہیں، لہٰذا اس بل کو اس انداز میں نافذ کیا جانا چاہیے کہ اس کے ثمرات براہِ راست صوبے کے عوام تک پہنچیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے معدنی وسائل صوبے کی معیشت کو مستحکم کرنے کی بنیاد بن سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کے استعمال میں شفافیت، مقامی شمولیت اور انصاف کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کے نفاذ سے نہ صرف سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ صوبے کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے دروازے بھی کھلیں گے، اس لیے اس بل کو عوام دوست اور متوازن انداز میں نافذ کرنا ازحد ضروری ہے۔وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان صوبے کے تمام قدرتی وسائل کو شفاف اور پائیدار طرزِ حکمرانی کے تحت استعمال میں لانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس امر کو یقینی بنائے گی کہ مائنز اینڈ منرلز سیکٹر سے حاصل ہونے والا فائدہ براہِ راست بلوچستان کے عوام اور مقامی کمیونٹیز کو ملے۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر صوبائی حکومت کے جاری ترقیاتی اور اصلاحاتی اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت بلوچستان ایک جدید ایوی ایشن کلب قائم کر رہی ہے، جہاں صوبے کے نوجوان کم لاگت میں پائلٹ تربیت حاصل کر سکیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ مستقبل میں حکومت کے زیرِ انتظام چھوٹے طیارے سرکاری امور، اندرونِ صوبہ سفری سہولت اور ایمرجنسی ہیلتھ سروسز کے لیے استعمال ہوں گے۔مزید برآں، وزیراعلیٰ نے بتایا کہ بلوچستان پولیس کے لیے حاصل کردہ طیارہ ایئر ایمبولینس میں تبدیل کرنے کے لیے ترکی روانہ کیا گیا ہے، اور یہ منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مریضوں کو بروقت طبی امداد کی فراہمی میں ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔دونوں رہنماؤں نے بلوچستان کی سیاسی فضا، عوامی توقعات اور صوبے کے ترقیاتی مستقبل پر بھی سیر حاصل گفتگو کی۔ سید احسان شاہ نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی کے لیے سیاسی ہم آہنگی، ادارہ جاتی مضبوطی اور تسلسلِ عمل بنیادی عوامل ہیں۔ انہوں نے حکومت کے جاری عوامی فلاحی منصوبوں پر گفتگو کرتے ہوئے ان میں مزید بہتری کے لیے اپنی تجاویز پیش کیں۔وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان مثبت سوچ، عملی اقدامات اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے باہمی تعاون کے ساتھ صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں، کاروباری طبقے اور سیاسی قیادت کی شمولیت سے صوبے کو ایک مضبوط، پُرامن اور خود کفیل خطہ بنایا جا سکتا ہے۔
ملاقات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، اور دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کے عوام کی فلاح، استحکام اور خوشحالی کے لیے باہمی مشاورت اور تعاون کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

