تمپ (گدروشیا پوائنٹ)تمپ کے علاقے بالیچہ میں کُلبر لبزانکی مجلس (کلم) بالیچہ کے زیراہتمام 4 اکتوبر 2025 کو ایک شاندار ادبی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جو بلوچی زبان و ادب کے نامور شعرا ماسٹر عیسیٰ انسان، عبدالطیف عادل، دوست محمد توفیق، اور عبدالواحد شوھاز کی یاد میں منعقد ہوا۔یہ پروگرام کامیابی اور ادبی وقار کے ساتھ اختتام پذیر ہوا اور ادب دوستوں نے اسے ایک تاریخی دن قرار دیا۔پروگرام کے پہلے حصے میں تقاریر کا سلسلہ جاری رہا، جن میں خلیل تگرانی، بجار بلوچ، علی گوھر، نزیر شے مُراد، اور نبیل دین نے شرکت کرتے ہوئے یادگار شعرا کی ادبی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔دوسرے حصے میں معروف شاعر شبیر نور کے شعری مجموعے “ھوناک” کی تقریبِ رونمائی عمل میں لائی گئی، جسے سامعین نے بے حد سراہا۔
تیسرے حصے میں ایک خوبصورت بلوچی مشاعرہ منعقد ہوا، جس کے مہمانِ خصوصی میر عمر میر تھے۔مشاعرے میں شرکت کرنے والے ممتاز شعرا میں ارشاد پرواز، علی گوھر، عارف عزیز، خلیل تگرانی، امین عاقل، زہیر اشرف، رستم نود، قادر وفا، باقی شاکر، عبدوست رحیم، آصف اختر، مھراج مھر، مروان مھر، ممتاز اشرف، نجیب حبیب، شہزاد فدا، تاج تاھیر، نصرت اللہ میرل، باھڈ تگرانی، قمبر شاد، اسمائیل ساگر، خمیس تگرانی، اور نعمان مجیب شامل تھے، جنہوں نے اپنے خوبصورت کلام سے محفل کو یادگار بنا دیا۔پروگرام کے چوتھے حصے میں بلوچی موسیقی کے معروف فنکار وھاب بلوچ اور سلیم بلوچ نے اپنی دلکش آوازوں اور فن کا مظاہرہ کیا، جنہیں سامعین کی جانب سے بھرپور داد ملی۔تقریب کے موقع پر مختلف کتاب اسٹالز بھی لگائے گئے، جن میں علم و ادب پبلشرز، ساچ در لبزانکی گَل مکران، اور ملا اسمائیل لبزانکی گَل پلا آباد کے اسٹالز نمایاں رہے۔ ان اسٹالز پر بلوچی ادب سے متعلق نادر و اہم کتابیں دستیاب تھیں۔بالیچہ اور گردونواح کے علاقوں سے اہلِ ادب، طلبا اور شائقینِ فن نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے اس ادبی پروگرام کو ایک تاریخی کامیابی بنایا۔یہ مجلس نہ صرف یادگار شعرا کے ورثے کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ذریعہ بنی بلکہ بلوچی زبان و ادب کے فروغ میں ایک نمایاں سنگِ میل ثابت ہوئی۔

