تُربت (گدروشیا پوائنٹ)ایس پی او ہال تُربت میں ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈیویلپمنٹ کے زیرِ اہتمام عالمی یومِ اساتذہ کے موقع پر ایک پُروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں ضلع بھر سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین اساتذہ اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب کا مقصد معاشرے میں اساتذہ کے عظیم کردار، ان کی خدمات اور تعلیم کے فروغ میں ان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا۔ پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد شرکاء سے خطابات کا سلسلہ شروع ہوا۔مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ استاد وہ چراغ ہے جو اپنی روشنی سے معاشرے کی تاریکی کو دور کرتا ہے۔ استاد ہی وہ معمارِ قوم ہے جو ایک عام انسان کو کامیابی، شعور اور فہم کی بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اگر کوئی شخص کسی اعلیٰ مقام پر فائز ہے تو اس کے پیچھے استاد کی محنت، دعا اور رہنمائی کارفرما ہے۔ٹرینر نے معلوماتی سیشن میں اساتذہ کو جدید تدریسی اصولوں، نفسیاتی رہنمائی اور بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت بڑھانے کے مؤثر طریقوں سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک کامیاب استاد وہ ہے جو محض علم منتقل نہ کرے بلکہ طلبہ کے دل میں سیکھنے کا شوق پیدا کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ اساتذہ کو بچوں کی ذہنی و نفسیاتی سطح کے مطابق تدریسی طریقے اپنانے چاہئیں تاکہ بچے صرف یاد نہ کریں بلکہ سمجھ کر علم کو عملی زندگی میں استعمال کریں۔پروگرام کے اختتام پر منتظمین عدنان بلوچ اور صمیم نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے تمام اساتذہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ قوم کے اصل معمار ہیں جو آنے والی نسلوں کو علم، کردار اور اخلاق کے زیور سے آراستہ کرتے ہیں۔
اس موقع پر احمر احمد نے بچوں کے لیے خصوصی کیئر کونسلنگ سیشن منعقد کیا، جس میں انہوں نے بچوں کی تعلیمی، نفسیاتی اور سماجی ضروریات پر گفتگو کی۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ طلبہ کے ساتھ جذباتی و اخلاقی ربط بھی قائم کریں تاکہ بچے اعتماد اور حوصلے کے ساتھ اپنے اہداف حاصل کر سکیں۔تقریب کے آخر میں ہیلپنگ ہینڈ کی جانب سے شریک اساتذہ میں شیلڈز، تعریفی اسناد اور گفٹ بیگز تقسیم کیے گئے۔ شرکاء نے اس اقدام کو نہایت قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں اساتذہ کے وقار کو اجاگر کرنے اور تعلیم کے فروغ میں نئی روح پھونکنے کا باعث بنتی ہیں۔

