تربت: میر ظہور بلیدی، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور زاہد سلیم کا ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ

تربت (گدروشیا پوائنٹ) صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقیات زاہد سلیم نے گزشتہ روز تربت میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزراء مینا مجید بلوچ، معتبر حاجی برکت رند، میر اصغر رند، سیکریٹری مواصلات و تعمیرات لال جان جعفر اور سیکریٹری صحت مجیب الرحمٰن بھی ان کے ہمراہ تھے۔وفد نے سب سے پہلے مکران میڈیکل کالج اور 200 بستروں پر مشتمل زیر تعمیر ٹیچنگ ہسپتال کا معائنہ کیا۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر منظور بلوچ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ منصوبہ 3 ارب 22 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا جا رہا ہے، جس کے بعد ضلع کی عوام کو جدید طبی سہولیات میسر ہوں گی۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اس موقع پر کہا کہ عوام کو صحت کے شعبے میں ریلیف دینا اولین ترجیح ہے، جبکہ میر ظہور بلیدی نے منصوبے کی بروقت تکمیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت صحت اور تعلیم کے شعبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقیات زاہد سلیم نے یقین دہانی کرائی کہ فنڈز اور تکنیکی پہلوؤں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے منصوبوں کی شفاف تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا۔بعد وفد نے تربت ٹیچنگ ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا جائزہ لیا، جہاں حادثات وارڈ، آئی سی یو اور فارمیسی سینٹر کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔ ایم ایس ڈاکٹر وحید بلیدی نے ہسپتال کو درپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ادویات کی فراہمی، آکسیجن پلانٹ اور ڈائیلاسز کے لیے فنڈز میں اضافہ ناگزیر ہے۔ صوبائی وزیر صحت مجیب الرحمٰن نے مسائل کے حل کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ جلد عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ مکران میڈیکل کالج کے اساتذہ اور فیکلٹی ممبران نے بھی وفد سے ملاقات کی اور کنٹریکٹ پر کام کرنے والے اساتذہ کو مستقل کرنے کا مطالبہ پیش کیا۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، میر ظہور بلیدی اور صوبائی وزیر صحت نے اساتذہ کے مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔اخر میں وفد نے زیر تعمیر ہائی کورٹ سرکٹ بینچ اور محکمہ صنعت کے دفاتر کا دورہ کیا، جہاں متعلقہ حکام نے منصوبوں کی پیش رفت سے وفد کو آگاہ کیا۔