گوادر: پانی اور بجلی کا نعرہ 66 سال بعد بھی تشنہ، عوام کا بنیادی حق سلب

گوادر( گدروشیا پوائنٹ )پانی دو، بجلی دو صرف نعرہ نہیں ہمارا حق ہے 66 سال ہوگئے۔ 1958 میں جب گوادر پاکستان میں شامل ہوا وعدے کیے گئے تھے ترقی کے، خوشحالی کے، بنیادی حقوق کے۔ لیکن افسوس کہ آج 2025 میں بھی گوادر کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ ہر الیکشن میں، ہر جلسے میں، ہر دیوار پر ایک ہی نعرہ لکھا جاتا ہے پانی دو، بجلی دو لیکن عملی طور پر عوام کو صرف دھوکہ، فریب اور خالی دعوے دیے گئے۔ سوڈ ڈیم ہو یا دیگر منصوبے ماہرین نے بارہا خبردار کیا کہ پانی جلد ختم ہونے والا ہے، لیکن حکمرانوں اور اداروں نے کان تک نہ دھرا۔ اربوں روپے کے بجٹ آئے، کرپشن ہوئی، ٹھیکے بانٹے گئے، لیکن عوام کے حصے میں آج بھی صرف خشک نلکے اور خالی ٹینک آئے ہم حکومت بلوچستان گوادر کے نمائندوں، اور وفاقی اداروں سے یہ سوال پوچھتے ہیں آخر کب تک گوادر کے بچے پیاسے سوئیں گےکس قانون کے تحت پانی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم رکھ کر عوام کو سزا دی جا رہی ہے؟
کرپشن کرنے والے آج بھی آزاد کیوں ہیں؟ اور غریب عوام مجرموں کی طرح لائنوں میں پانی کے انتظار میں کیوں کھڑے ہیں؟
یہ تحریک صرف مطالبہ نہیں یہ حقِ زندگی کی جنگ ہے۔ ہمارا مطالبہ واضح ہے گوادر کے پانی بحران پر فوری ایمرجنسی نافذ کی جائے۔ پانی منصوبوں میں ہونے والی کرپشن کی جوڈیشل انکوائری کی جائے اور ملوث افراد کو سرِعام بے نقاب کر کے سزا دی جائے۔ پانی کی مستقل سپلائی کے لیے لائحہ عمل اور ٹائم فریم عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ ہر سیاسی نمائندہ جو ووٹ لے کر گیا اس سے جواب طلبی کی جائے کہ پانچ سال میں کیا کیا؟
ہم اب محض تماشائی نہیں رہیں گے اگر حکمرانوں کی آنکھیں بند ہیں، تو ہم اب کبوتر نہیں بنیں گے۔
پانی خیرات نہیں ہمارا آئینی، انسانی اور اسلامی حق ہے
سابق چیرمین میونسپل کمیٹی گوادر شریف میانداد بلوچ