ناصر آباد: گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول میں سائنسی ماڈلز کی نمائش، طالبات کا ٹیلنٹ نمایاں

تربت(گدروشیا پوائنٹ) گورنمنٹ گرلز ہائیر اینڈ سکینڈری اسکول ناصر آباد میں سائنسی ماڈلز کی نمائش، طالبات کے ہنر کو سراہا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ضلع کیچ کے علاقے ناصر آباد میں گورنمنٹ گرلز ہائیر اینڈ سیکنڈری اسکول کی جانب سے پرنسپل ماہان عباس کی سربراہی میں سائنسی ماڈلز کی نمائش کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں طالبات نے مختلف سائنسی و سماجی موضوعات پر ماڈلز تیار کرکے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
نمائش میں سائنس، میڈیکل، سگریٹ نوشی، منشیات، کاربن سائیکل, حج بیت اللہ شریف میں حج کی ادائیگی، موسمیاتی تبدیلی، خواتین کو تعلیم کے کم مواقع اور دیگر مسائل کو ماڈلز کے ذریعے اجاگر کیا گیا۔ ججز پینل میں کیچ سول سوسائٹی کے سابق کنوینئر التاز سخی، لاء کالج کے لیکچرر عمر جان اور ناصر آباد کالج کے لیکچرر وسیم بلوچ شامل تھے۔ ججز کمیٹی کے سربراہ التاز سخی نے نتائج کا اعلان کیا۔ جس کے مطابق پہلی پوزیشن جماعت دہم، دوسری پوزیشن فرسٹ ایئر اور تیسری پوزیشن سیکنڈ ایئر کی طالبات نے حاصل کی۔ اسکول کی جانب سے پہلی پوزیشن کو ٹرافی نقد انعام، کلاس ٹیچر کو بھی جبکہ دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات اور ان کے کلاس ٹیچرز کو چیف آفیسر شعیب ناصر کی طرف سے نقد انعامات دیئے گئے۔
تقریب میں میونسپل کارپوریشن تربت کے چیف آفیسر شعیب ناصر، تربت یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر رؤف راز، تربت پریس کلب کے صدر حافظ صلاح الدین سلفی، کیچ سول سوسائٹی کے رہنما غلام اعظم دشتی اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔ مہمانوں نے مختلف اسٹالز کا معائنہ کرکے طالبات سے بریف لی اور سوالات کیئے اور ان کے جوابات پر مہمانوں نے اطمینان کا اظہار کیا۔ مہمانانِ گرامی نے طالبات کے ٹیلنٹ اور اسکول انتظامیہ و اساتذہ کی کاوشوں کو سراہا۔ اس موقع پر اسکول کی پرنسپل میڈم ماہان عباس نے گدروشیا پوائنٹ چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ 14 سال سے اس اسکول میں خدمات انجام دے رہی ہیں اور پہلی بار انہوں نے اس طرح کی سائنسی نمائش کا انعقاد کیا۔ اس سیشن میں سو فیصد کامیابی ملی، طالبات کی کمٹمنٹ اور کارکردگی نے نہ صرف حوصلہ دیا بلکہ یہ ثابت کیا کہ ہمارے بچے بڑے ایونٹس میں بھرپور صلاحیت کے ساتھ شریک ہو سکتے ہیں۔ پرنسپل نے کہا کہ نمائش کا مقصد طالبات کو پلیٹ فارم فراہم کرنا اور انہیں موٹیویٹ کرنا تھا تاکہ مستقبل میں اسکولز کے درمیان مقابلے ہوں اور بچے اپنے ٹیلنٹ کو مزید نکھار سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکنڈ کلاس سے میٹرک تک کی طالبات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جن میں کلاس دہم، فرسٹ ایئر اور سیکنڈ ایئر کی طالبات نے نمایاں کارکردگی دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سب سے زیادہ متاثر کالج کی طالبات نے کیا، جنہوں نے پریزنٹیشن اور سوالات کے جوابات میں اپنی سمجھ بوجھ کا ثبوت دیا۔ انہوں نے کہا کہ “کاربن سائیکل جیسے اہم موضوع پر طالبات نے ریڈی میڈ جواب دینے کے بجائے اپنی سمجھ کے مطابق بات کی، جو آج کے دور کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکول کی کارکردگی بہترین ہے تاہم کئی مسائل بھی درپیش ہیں۔ بجلی کی کمی اور ناکافی سہولیات کی وجہ سے بچے متاثر ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہمارے علاقے میں بجلی کا شدید مسئلہ ہے، سولر سسٹمز موجود ہیں مگر مکمل نہیں، ٹرانسفارمرز کی کمی اور گرمی کی شدت کی وجہ سے مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ میڈم ماہان عباس نے ضلع کونسل کے چیئرمین ہوتمان بلوچ اور ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ سہولتیں فراہم کی جائیں تو وہ وعدہ کرتی ہیں کہ اسکول کے معیار کو مزید بلند کریں گی اور طالبات کو ہر طرح کے ایونٹس اور امتحانات کے لیے تیار کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ سرکاری اسکولز کو پرائیویٹ اسکولز کے معیار کے برابر لایا جائے تاکہ سرکاری تعلیمی اداروں کے طلبہ بھی بھرپور طریقے سے آگے بڑھ سکیں۔