تربت (گدروشیا پوائنٹ) کیچ تھیلیسیمیا کئیر سنٹر نے تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کو خون اور ادویات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اس جان لیوا بیماری کی روک تھام کے لیے ایک نئی آگاہی مہم شروع کر دی۔ اس مہم کا مقصد ضلع کیچ کے تعلیمی اداروں میں تھیلیسیمیا پریونشن سیشنز منعقد کر کے نوجوان نسل کو شادی سے قبل ٹیسٹ کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔
یاد رہے کہ تھیلیسیمیا کا واحد علاج پرہیز ہے، اور پرہیز کا مطلب ہے کہ شادی سے پہلے نوجوان اپنا تھیلیسیمیا ٹیسٹ لازمی کروائیں تاکہ یہ مرض نسل در نسل منتقل نہ ہو۔
مہم کا پہلا مرحلہ گزشتہ روز ہوشاب سے شروع کیا گیا۔ اس دوران شہید زاکر بلوچ ڈگری کالج اور گورنمنٹ بوائز اینڈ گرلز ہائی اسکول ہوشاب میں آگاہی سیشنز منعقد ہوئے، جن میں طلبہ و طالبات اور اساتذہ کو بتایا گیا کہ دو مائنر (کیریئرز) آپس میں شادی نہ کریں ورنہ ان کے بچے ہمیشہ کے لیے اس مرض کا شکار ہو سکتے ہیں۔
پرنسپل شہید زاکر بلوچ ڈگری کالج راشد علی، پرنسپل بوائز ہائی اسکول امیربخش اور پرنسپل گرلز ہائی اسکول ایاز قادر نے پروگرام کے انعقاد میں بھرپور تعاون کیا۔ کیچ تھیلیسیمیا کئیر سنٹر نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ مہم ضلع کے تمام تعلیمی اداروں تک پھیلائی جائے گی۔
واضح رہے کہ بلوچستان اسمبلی نے 2015 میں بلوچستان پریونشن اینڈ کنٹرول آف تھیلیسیمیا ایکٹ منظور کیا تھا، مگر تاحال اس پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ کیچ تھیلیسیمیا کئیر سنٹر نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس قانون پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے، ورنہ آنے والے برسوں میں یہ بیماری ہر گھر تک پہنچ سکتی ہے۔
کیچ تھیلیسیمیا کئیر سنٹر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آگاہی مہم میں بھرپور حصہ لیں اور شادی سے قبل اپنا تھیلیسیمیا ٹیسٹ لازمی کرائیں۔

