بلوچستان کے ساحلی شہرگوادر سے گدروشیا پوائنٹ کے نمائندہ عبیداللہ بلوچ کی رپورٹ کے مطابق چیرمین گوادر بندرگاہ و پانی و بجلی کے کوآرڈینیٹر نورالحق بلوچ کی زیر صدارت پانی سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ادارہ ترقیات گوادر انجینئر معین الرحمن، ڈپٹی کمشنر گوادر حمودالرحمٰن، ایکسیئن پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ انجینئر مومن بلوچ، چیف انجینئر جی ڈی اے انجینئر سید محمد بلوچ سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں گوادر کو پانی فراہم کرنے والے ذرائع، ڈیموں، سنٹسر بورنگز اور گھریلو کنکشنز کی تفصیلی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر چیرمین نورالحق بلوچ نے کہا کہ پانی کی قلت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی پائیدار اور منصفانہ تقسیم ناگزیر ہے۔ اجلاس میں متعدد فیصلے اور ہدایات جاری کی گئیں، جن کے مطابق پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت دی گئی کہ سنٹسر بورنگز کو ایک ہفتے کے اندر جیونی تک منسلک کیا جائے۔ بتایا گیا کہ ڈیسالینیشن پلانٹ سے روزانہ چھ لاکھ گیلن پانی گوادر شہر کو سپلائی کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں یہ بھی ہدایت کی گئی کہ سوڈ سے گوادر ایئرپورٹ پمپنگ اسٹیشن کو فراہم کیے جانے والے پانی کی مقدار کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے اور غیر ضروری پانی کی سپلائی کم کیئے جائیں۔ اجلاس میں پانی کی مجموعی طلب و رسد کا باقاعدہ تخمینہ لگانے، شارٹ فال کی صورت میں متبادل ذرائع کو فعال کرنے اور غیر فعال یا غیر ضروری صنعتی کنکشنز ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ جی ڈی اے کو شہریوں کو پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ نئے گھریلو کنکشن فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔ ساتھ ہی جی ڈی اے کے واٹر اسٹوریج ٹینکس کی نگرانی اور بیک اپ سسٹمز کو فعال رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ چیرمین نورالحق بلوچ نے کہا کہ پانی کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے، جسے حل کرنے کے لیے تمام اداروں کے درمیان قریبی رابطہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ ہر ممکن اقدامات کر کے گوادر کے شہریوں کو پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

