تربت (گدروشیا پوائنٹ) چھ جماعتی اتحاد “تحریک تحفظ آئین پاکستان” بلوچستان کے قائدین کی کال پر آج 8 ستمبر کو تربت شہر سمیت ضلع کیچ بھر میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال جاری ہے۔ پہیہ جام ہڑتال کی کال کے سبب ٹریفک کی روانی معمول سے انتہائی کم نہ ہونے کے برابر ہے۔ مالیاتی اور کاروباری مراکز بند ہیں۔ سیاسی اتحاد کے مرکزی اور ضلعی رہنما ہڑتال کی نگرانی کرتے ہوئے عمل درآمد کو یقینی بنا رہے ہیں
کسی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے ایس پی کیچ شہر سمیت ضلع کیچ کے مختلف مقامات پر پولیس تعینات کرکے انہیں الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔ پہیہ جام ہڑتال کے باعث ضلع کےتمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بند رہے ٹرانسپورٹرز نے بھی پہیہ جام ہڑتال کی کال پر عمل کرتے ہوئے گاڑیاں سڑکوں پر نہیں لائیں جس کے باعث تربت سے کوئٹہ اور کراچی جانے والے ہزاروں مسافر متاثر ہوئے اور اپنے مقامات پر روانہ نہ ہوسکے۔ جبکہ سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں عوام کے جمہوری حقوق سلب کیئے جارہے ہیں۔ نہ صرف شہریوں کو اغوا کرکے مہینوں اور سالوں تک لاپتہ کیا جارہا ہے اور ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جارہا ہے بلکہ انہیں پُرامن احتجاج جیسے بنیادی جمہوری حق سے بھی محروم کیا جارہا ہے۔ اس کی واضح مثال مستونگ کے لک پاس پر دھرنے کے شرکاء پر دھماکہ ہھر صرف چند مہینے کے بعد کوئٹہ میں جلسہ شرکاء پر خودکش حملہ اور ملزمان کی عدم گرفتاری ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ریاست اور حکومت کے بااختیاروں کی جانب سے مختلف محفلوں میں بلوچستان کے بلوچ و پشتون قوم پرستوں کے خلاف زہر آلود گفتگو کی جارہی ہے جو خود ماحول کو مزید کشیدہ بنارہی ہے۔

