کوئٹہ(گدروشیا پوائنٹ)صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ تعلیم ان کی اولین ترجیح ہے اور اسی مقصد کے تحت ضلع کیچ میں محکمہ تعلیم کے تمام افسران، اسکول سربراہان اور اساتذہ کرام کے ساتھ کوئٹہ میں ایک تفصیلی مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا۔
اجلاس میں معیار تعلیم کو بہتر بنانے، اساتذہ کی غیر حاضری کو روکنے، اسکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد کم کرنے اور تعلیم سے محروم رہ جانے والے بچوں کو دوبارہ اداروں میں داخل کرنے کے لیے مختلف عملی تجاویز پر غور کیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ بی ایریا کے اساتذہ مشکل حالات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں جس کے نتیجے میں ضلع کیچ بالخصوص ان کے حلقے کے طلبہ میڈیکل، انجینئرنگ کے داخلہ ٹیسٹوں اور مقابلہ جاتی امتحانات میں نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیابی میں پرائیویٹ اداروں کے ساتھ ساتھ سرکاری اسکولوں کا بھی کلیدی کردار ہے۔
میر ظہور بلیدی نے مزید کہا کہ اگرچہ تعلیمی اداروں میں سہولیات کی کمی اب بھی موجود ہے لیکن اس میں بتدریج بہتری لائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہمارا بقا اور ترقی براہ راست تعلیم سے وابستہ ہے۔ جب ہر فرد اپنے منصبی فرائض کو خلوص اور دیانتداری کے ساتھ سرانجام دے گا تو ہی حقیقی اور ثمرآور نتائج برآمد ہوں گے۔ تعلیم کو آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی عزم، عملی جدوجہد اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ کی تیاری کے وقت اساتذہ کی تجاویز کو خصوصی اہمیت دی جائے گی اور کسی تعلیمی منصوبے کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اساتذہ چونکہ فیلڈ سپایی ہیں ہر وقت فیلڈ میں موجود ہوتے ہیں وہ مائیکرو سطح پر مسائل کی نشاندہی کریں تاکہ وہ خود میکرو سطح پر ان کے حل کے لیے اقدامات کر سکیں۔
صوبائی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیم کا فروغ نہ صرف نوجوان نسل کو روشن مستقبل فراہم کرے گا بلکہ تخریبی عناصر کے بیانیے کو بھی ناکام بنائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے بلوچستان کے عوام کو ترقی، خوشحالی اور باوقار مستقبل دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت تعلیم کے شعبے کو مستحکم بنا کر نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور صوبے کو پسماندگی سے نکالنے کے لیے پُرعزم ہے۔
بعد ازاں صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی نے معزز مہمانوں کے اعزاز میں پرتکلف عشائیے کا اہتمام بھی کیا۔

