تربت: ایچ آر سی پی کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے عالمی دن پر سیمینار کا انعقاد

تربت (گدروشیا پوائنٹ) ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے عالمی دن کے موقع پر تربت پریس کلب میں سیمینار منعقد کیا گیا۔ سیمینار میں سیاسی و سماجی رہنماؤں، وکلاء، صحافیوں اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
سیمینار سے معروف ادیب غنی پرواز، ایڈوکیٹ رستم جان گچکی ، عبدالمجید دشتی، سیاسی رہنما محمد کریم گچکی، خان محمد جان اور صحافی مقبول ناصر نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ جبری گمشدگیاں انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کے خلاف ہیں اور ان کے خاتمے کے لیے اجتماعی جدوجہد کی ضرورت ہے۔
اجلاس کے دوران پانچ قراردادیں اور ایک اپیل منظور کی گئی۔ قراردادوں میں کہا گیا کہ
1. ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، گلزادی، بیبو بلوچ، شاہ جی اور بیبگر بلوچ سمیت گزشتہ پانچ ماہ سے غیر قانونی طور پر قید تمام افراد کی فوری رہائی عمل میں لائی جائے۔
2. 2001 سے اب تک 65 ہزار بلوچوں کو جبری لاپتہ کیا گیا ہے، اس سلسلے کو فی الفور بند کرتے ہوئے تمام افراد کو بازیاب کیا جائے۔
3. 2001 سے اب تک 23 ہزار سے زائد بلوچوں کو ماورائے آئین و عدالت قتل کر کے لاشیں مسخ حالت میں ویرانوں میں پھینکی گئیں، اس عمل کو ہمیشہ کے لیے روکا جائے۔
4.ڈاکٹر دین محمد، ذاکر مجید، وہاب نور، دادشاہ، رفیق عمان، رشید حمید، عادل عصاء، آصف بلوچ، علی اصغر بنگلزئی، چنگیز ساحر اور زرینہ مری سمیت تمام لاپتہ افراد کو فوری بازیاب کیا جائے۔
5.اجلاس نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان بھر میں ہزاروں غیر بلوچ افراد بھی لاپتہ ہیں۔ ان سب کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
مزید برآں ایک اپیل میں کہا گیا کہ اگر علاقے کے کسی شخص کو جبری طور پر لاپتہ کیا جائے تو متاثرہ خاندان فوری طور پر ایچ آر سی پی ریجنل آفس تربت مکران سے رابطہ کرے اور اقوام متحدہ کا فارم بھر کر جمع کرائے تاکہ قانونی و انسانی سطح پر کوششیں کی جا سکیں۔
سیمینار کے اختتام پر تربت پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا، جس میں مقررین اور شرکاء نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے نعرے بلند کیے۔