دالبندین: پاک ایران راجے گذر کراسنگ پوائنٹ چھ ماہ سے بند، لاکھوں افراد بے روزگار

دالبندین (گدروشیا پوائنٹ) پاک ایران راجے گذر کی بندش سے لاکھوں افراد بے روزگار لوگ فاقہ کشی کرنے پہ مجبور ایرانی اور پاکستانی حکام کی طرف سے طفل تسلیاں کام نہ آ سکیں کریڈٹ لینے کا جنگ بھی ختم تفصیلات کے مطابق پاک ایران بارڈر سے متصل راجے گذر کراسنگ پوائنٹ کی مسلسل چھ مہینے کی بندش سے نہ صرف زمبیاد مالکان ڈرائیورز بلکہ تیل کے کاروبار سے منسلک ایران اور پاکستان کے سرحد پر واقع دونوں اطراف کے لاکھوں افراد بے روزگار ہو کر نان شبینہ کا محتاج ہو کر رہ گئے ہیں سرحدی علاقوں کے لوگوں کا ذریعہ معاش انہی بارڈر کے تیل کے کاروبار سے منسلک ہے جس سے روزانہ ہزاروں افراد اپنا گزر بسر کرتے ہیں مگر گزشتہ چھ مہینے سے راجے گذر کراسنگ پوائنٹ کی بندش سے ایران اور پاکستان کے سرحد پر واقع دونوں اطراف کے لاکھوں لوگ نان شبینہ کا محتاج ہو کر رہ گئے ہیں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے متصل ایرانی بارڈر تیل کے کاروبار کیلئے کھول دیا گیا ہے جو کہ ایک اچھی اور مثبت عمل ہے جس سے وہاں کے لوگ اپنے محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں مگر بدقسمتی سے ضلع چاغی سے متصل ایرانی راجے گذر کو بلاؤجہ بند کرکے مختلف حیلے بہانے بنائے جا رہے ہیں کھبی ایرانی ٹینکر مافیا کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے تو کھبی ایرانی حکام کی طرف سے بندش کا دعویٰ کیا جاتا ہے کھبی ایران میں واقع قبائلی عمائدین کے میٹنگز میں بارڈر راجے گذر کا اعلان ہوتا ہے تو کھبی آیرانی سفیر سے ملاقات میں بارڈر کھولنے کا کریڈٹ لینے کا جنگ شروع ہوتا ہے سرحد کے دونوں اطراف کے غریب مزدوروں کا انحصار تیل کے کاروبار سے وابستہ ہیں اگر اس کاروبار کو بھی بند کر دیا جاتا ہے تو علاقے کے لوگوں کیلئے کاروبار کا کوئی دوسرا ذرائع نہیں ضلع چاغی کے سیاسی و سماجی حلقوں و تیل کے کاروبار سے منسلک لوگوں نے پاکستانی اور ایرانی حکام سے مطالبہ کیا کہ سرحد کے دونوں اطراف لوگوں کے مشکلات و مجبوریوں کو مدنظر رکھ کر راجے گذر کراسنگ پوائنٹ کو کھولنے کیلئے اقدامات کریں